انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 148

انوار العلوم جلد 24 148 مسکرا پڑا کہ فلاں صاحب تو وہ کھڑے ہوئے ہیں۔لیکن بات یہی تھی کہ یہ لفظ زبان پر آتے آتے بیچارے کو بھینچ کر لے گئے اور وہ اس زور میں بول گئے یہ ساری باتیں دُور ہو جاتی ہیں اگر احتیاط کے ساتھ کام لیا جائے اور اس میں فوائد زیادہ ہوتے ہیں۔جماعت سے جتنی واقفیت ہو جائے اتنا ہی انسان کام زیادہ اچھا کر سکتا ہے۔باتوں باتوں میں ہم اُس کا کیریکٹر معلوم کر لیتے ہیں۔ہم یہ جان لیتے ہیں کہ وہ کتنی قربانی کر سکتا ہے، کس قسم کی خدمت کر سکتا ہے۔یہ چیزیں اگر ہم نا واقف ہوں تو ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔مسلمان ایک نہایت نازک چوتھی بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس وقت دور میں سے گزر رہے ہیں مسلمانوں کی حالت نہایت نازک ہے مسلمانوں پر یہ ایسا سخت دور گزر رہا ہے کہ در حقیقت اس شکل میں تین سو سال سے ایسا نازک دور نہیں آیا یعنی پہلے نزاکت یہ تھی کہ چوٹی سے وہ نیچے گر رہے تھے اور ہر دن وہ نیچے کی طرف گرتے چلے جاتے تھے۔اُن کی حالت اس قسم کی تھی کہ وہ اپنے گرنے میں کچھ تکلیف نہیں محسوس کرتے تھے بلکہ وہ ایک دوسرے کے گرانے میں لذت محسوس کرتے تھے اور یہ خیال کرتے تھے کہ گویا اگر ہم نے اس کو مار دیا اور ہم مر گئے تو چلو پرائے شگون میں ناک کٹوالی کوئی حرج نہیں ہے اُس کو تو نقصان پہنچادیا ہے۔اس لئے وہ دور تکلیف کا تو تھا مگر احساس کم تھا اس کے بعد اللہ تعالیٰ وہ دن لایا کہ جبکہ مسلمانوں کے اندر بیداری پیدا ہونی شروع ہوئی، احساس پیدا ہونا شروع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے جو اسلام کی دشمن طاقتیں تھیں اُن کے اندر تفرقہ پیدا کر دیا۔اُن کے اندر حسد پیدا کر دیا۔اُن کے اندر اختلاف پیدا کر دیا جس کے نتیجہ میں مسلمان قوموں نے آزاد ہونا شروع کیا۔پہلے ماتحت تھیں غلام تھیں ان کو کچھ نہ کچھ آزادی ملنی شروع ہوئی مثلاً ایران قریباً قریباً روس اور انگریزوں کے قبضہ میں تھا اُس نے کچھ آزادی حاصل کی۔مصر پہلے فرانس کے قبضہ میں تھا پھر انگریزوں کے قبضہ میں رہا اُس نے آزادی حاصل کی۔ہندوستان انگریزوں کے قبضہ میں تھا سارا تو نہیں ملا مسلمانوں کو پر خیر کچھ مغرب سے کچھ مشرق سے تھوڑا بہت مل کے فیملی سی مل گئی اُن کو۔اسی طرح