انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 139

انوار العلوم جلد 24 139 پھر جو اچھی سے اچھی جگہ تھی اُس کی قیمت دو ہزار کی گئی باقی پندرہ سو ہزار پر لائی گئی۔اور ساتھ ہی اور بھی میں نے کہا کہ آئندہ یہ رکھو کہ کچھ عرصہ مدت مقرر کر کے تحریک کی تحریک بھی ہوتی ہے اور لوگوں کو رعائت بھی مل جاتی ہے یہ اعلان کر دو کہ مثلاً اتنے عرصہ میں جو قیمت دیدے اُس کو ہم مثلاً دس فیصدی کمیشن دے دیں گے۔اب انہوں نے 340 کنال کے متعلق کیا ہے ہمارے پاس اتنی زمین باقی ہے میں نے کہا ہے کہ پندرہ کنال کے قریب ہم دوسری ضروریات کے لئے رکھ لیں گے۔میری اپنی رائے میں تو آٹھ کنال زیادہ سے زیادہ کافی ہے لنگر خانہ وغیرہ کے لئے۔چار کنال ایک جگہ پر۔اور دو دو کنال دوسری جگہ پر لیکن باقی سکول و غیرہ کے لئے بھی ضرور تیں ہوتی ہیں 15کنال میرے نزدیک ہم کو فارغ رکھنی چاہئے باقی 325 رہ گئی قیمت اس وقت غالباً دو ہزار پندرہ سویا ہزار ہے۔“ فرمایا:- اس موقع پر حضور نے دفتر والوں سے دریافت فرمایا تو ان کے جواب پر ارشاد پندرہ سو ہزار اور ساڑھے سات سو ہے یعنی پچھلے سال سے نصف کر دی گئی ہے اور اس کے لئے بھی وہ یہ لکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص 31 مارچ تک رقم ادا کر دے تو ہم دس فیصدی اُس کو ری بیٹ 1 (REBATE) دے دیں گے مثلاً پندرہ سو روپیہ پر وہ خرید تا ہے اگر وہ اس مارچ تک دے دے گا تو اس کو ساڑھے تیرہ سو میں ہم دے دیں گے۔اگر ہزار روپیہ میں ایک ٹکڑہ خریدتا ہے تو اُس کو 31 مارچ تک اگر وہ قیمت ادا کر دے تو ہم اُس کو 9سو میں دے دیں گے۔اگر ساڑھے سات سو میں وہ خریدتا ہے تو اس کو ہم پونے سات سو میں دے دیں گے اگر وہ 31 کو دیدے۔میں اس کے ساتھ ایک زائد بات بھی کر دیتا ہوں کہ وہ اسکے ساتھ یہ بھی رعایت کر دیں کہ 31 مارچ تک جتنی رقم وہ دیدے بھی وہ ری بیٹ دے دیں مثلاً پندرہ سو والے نے 31 مارچ تک ہزار دے دیا500 رہ گیا تو ہزار پر تو سو روپیہ ری بیٹ اُس کو دے دیں باقی پانچ سو اپنا پورا وصول کر لیں۔اس طرح کر کے اُن کو زیادہ سے زیادہ ادا کرنے کی بھی ہمت ہو گی اور ساتھ اسکے اُس پر