انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 122

انوار العلوم جلد 24 122 افتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1953ء پھر اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے یہاں آنے کی توفیق دی ہے اللہ تعالیٰ اُن پر بھی رحم فرمائے اور جو بظاہر نہیں آسکے لیکن اُن کے دل ہمارے ساتھ ہیں اللہ تعالیٰ اُن پر بھی رحم کرے کیونکہ ہمارا نگران اور وارث سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں۔دنیا میں کوئی قوم اتنی لاوارث نہیں جتنی ہم ہیں اور کوئی قوم اتنی پشت پناہ بھی نہیں رکھتی جتنی ہم رکھتے ہیں۔ہماری مثال اس بچہ کی سی ہے جو اپنے ماں باپ سے جدا ہو کر جنگل میں آپڑتا ہے جہاں اس کے ارد گرد کہیں بھیڑیئے ہوتے ہیں کہیں چیتے ہوتے ہیں کہیں سانپ اور بچھو وغیرہ ہوتے ہیں لیکن ساتھ ہی جیسے اس بچہ کے لئے اللہ تعالیٰ بعض دفعہ شیروں کے دلوں میں محبت پیدا کر دیتا ہے اور وہ اس کے گرد گھیرا ڈال لیتے ہیں یہی ہماری حالت ہے۔خدا کے فرشتے آتے ہیں اور ہماری حفاظت کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو کہ جو باہر ہمارے بھائی ہیں اللہ تعالیٰ ان کی بھی حفاظت کرے اور انہیں خدمت دین کی توفیق بخشے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جو یہاں نہیں آئے ان میں سے بعض کے اخلاص ہم سے زیادہ ہوں اور ہو سکتا ہے کہ اُن میں سے بعض کی آہیں اور دعائیں ہمارے لئے زیادہ کارآمد ہو رہی ہوں بہ نسبت اُن کے جو یہاں آئے ہوئے ہیں۔پس وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ہم جو مرکز میں جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کی برکتیں حاصل کر رہے ہیں اُن کے لئے بھی دعائیں کریں تا کہ اُن کی دعائیں زیادہ سے زیادہ ہم کو حاصل ہوں۔اس کے بعد میں دعا کر کے گھر چلا جاؤں گا اور جلسہ کی کارروائی شروع ہو گی۔“ غیر مطبوعہ مواد از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ) 1 مسلم کتاب الذكر باب فضل مجالس الذکر۔