انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 117

انوار العلوم جلد 24 117 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1953ء اللہ تعالیٰ کی محبت پائی جاتی ہو لیکن تمہارے سو میں سے دس ایسے نکل آئیں گے اور یہ بڑا بھاری فرق ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ تمہاری طاقت ان کی نسبت ہزار گنازیادہ ہے اور اگر تمہارے سو میں سے ہیں ایسے نکل آئیں تو تم ان سے دو ہزار گنا زیادہ طاقتور ہو جاؤ گے اور اگر تیں نکل آئیں تو تین ہزار گنا طاقتور ہو جاؤ گے۔بہر حال الہی جماعتوں اور غیر الہی جماعتوں میں کثرت اور قلت کا فرق ہی ہوتا ہے۔لوگ بعض دفعہ نادانی سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ الہی جماعت وہ ہوتی ہے جس کے سارے کے سارے افراد جنتی ہوں اور غیر الہی جماعتیں وہ ہوتی ہیں جن کے سارے کے سارے افراد جہنمی ہوں حالانکہ نہ غیر الہی جماعتیں ساری کی ساری خدائی انعامات سے محروم ہوتی ہیں اور نہ الہی جماعتیں ساری کی ساری ان انعامات کی مستحق ہوتی ہیں صرف قلت اور کثرت کا فرق ہوتا ہے۔جب سے دنیا کا سلسلہ شروع ہے انبیاء کی جماعتوں میں کثرت سے خدائی فضلوں سے حصہ لینے والے لوگ موجود ہوتے ہیں اور باقی مذاہب اور جماعتوں میں ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں اور چونکہ اکثریت پر فیصلہ ہوتا ہے اس لئے سمجھا جاتا ہے کہ وہ لوگ خدائی محبت اور اس کے انعامات سے محروم ہیں جیسے ہندوستان میں بھی کروڑ پتی موجود ہیں لیکن اسے غریب ملک سمجھا جاتا ہے اس کے مقابلہ میں یورپ اور امریکہ میں بھی کروڑ پتی ہیں لیکن انہیں امیر ملک سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہاں جو مالدار پائے جاتے ہیں ان میں سے بعض وہاں کے بڑے سے بڑے مالدار کی ٹکر کے ہیں لیکن اس کے باوجود ہمارے ملک کو غریب سمجھا جاتا ہے اس لئے کہ یہاں پر اگاؤ کا امیر ہیں اور وہاں ہزاروں ہزار مالدار لوگ موجود ہیں۔پس باوجود اس کے کہ کروڑ پتی یہاں بھی پائے جاتے ہیں یہ ملک غریب سمجھا جاتا ہے اور وہ امیر سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ان میں امیروں کی کثرت پائی جاتی ہے تو اصل ترقی اسی میں ہوا کرتی ہے کہ جماعتی طور پر اپنے اندر نیکی اور تقوی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے اور خد اتعالیٰ کے جو فرشتے نازل ہوتے ہیں ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے۔جتنا جتنا کوئی شخص دنیا سے قطع تعلق کر کے اپنا ایک الگ حلقہ بنالے گا اسی قدر اس کے لئے خدائی قرب میں بڑھنا آسان