انوارالعلوم (جلد 24) — Page 90
انوار العلوم جلد 24 90 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب کون سے حالات تھے جن پر انہوں نے اپنا نظریہ قائم کیا۔سو ہم دیکھتے ہیں کہ ماضی تو ان کے سامنے یہ تھا کہ ان کے ملک میں سکھوں کی حکومت تھی جو اذانوں سے روکتے تھے ، نمازوں سے روکتے تھے، دینی تعلیم کے حصول سے روکتے تھے ، مسلمانوں کی جائدادوں پر زبر دستی قبضہ کر لیتے تھے ، ان کی حکومت میں سوائے اگا دُ کا مسلمانوں کے جن کو ضرور تا رکھا گیا تھا عام طور پر مسلمانوں کو ملازمتوں میں نہیں رکھا جاتا تھا اور مسلمانوں کی لڑکیاں بعض دفعہ زبر دستی چھین لی جاتی تھیں اور ان کے ساتھ حیا سوز سلوک کئے جاتے تھے۔جب انگریزوں نے سکھوں کی جگہ لی تو اس وقت انگریزوں نے کسی مسلمانوں کی حکومت پر قبضہ نہیں کیا بلکہ سکھوں کی حکومت پر قبضہ کیا۔پنجاب کے مسلمان کسی اسلامی حکومت کے ماتحت نہیں تھے بلکہ سکھوں کی حکومت کے ماتحت تھے جن کا سلوک اوپر گزر چکا ہے۔اس کے مقابلہ میں انگریزوں نے جہاں تک پرسنل لاء کا سوال ہے مسلمانوں کو آزادی دی اور گو پوری طرح انصاف نہیں کیا لیکن پھر بھی ہزاروں مسجدیں جو سکھوں نے چھین لی تھیں واگزار کر دیں۔ہزاروں ہزار مسلمانوں کے مکانات اُن کو واپس دلائے اور نوکریوں کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے۔مسجدوں میں اذانوں اور نمازوں کی آزادی حاصل ہوئی اور دینی تعلیم پر سے تمام بندشیں اُٹھالی گئیں۔مودودی صاحب بتائیں کہ ان حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے آیا بانی سلسلہ احمدیہ کو انگریزوں کی تعریف کرنی چاہئے تھی یا کہ مذمت کرنی چاہئے تھی؟ اگر وہ انگریزوں کی حکومت کی مذمت کرتے تو اس کے معنے یہ تھے کہ وہ سکھ راج کی تائید کرتے ہیں کیونکہ پنجاب میں سکھ راج تھا مسلمانوں کی حکومت نہیں تھی اور اس کے معنے یہ تھے کہ وہ اس بات کو پسند کرتے کہ اذانوں کو بند کر دیا جائے، مسجدوں کو توڑ دیا جائے یا ان میں اصطبل بنا دیے جائیں۔مسلمانوں کی دینی تعلیم بند کر دی جائے، جہاں بس چلے ان کی لڑکیاں زبرستی چھین لی جائیں اور معمولی معمولی الزاموں پر ان کو قتل کر دیا جائے۔کیا اگر بانی سلسلہ احمدیہ ایسا کرتے تو مولانا مودودی کے دل کو ٹھنڈک نصیب ہو جاتی۔کیا ان کو اور ان کے ساتھیوں کو ایسے ہی واقعات سے ٹھنڈک نصیب ہوتی ہے۔اگر نہیں تو