انوارالعلوم (جلد 24) — Page 81
انوار العلوم جلد 24 81 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی بعض نہایت متعصب لوگوں کے باقی سب تعلیم یافتہ اور سمجھدار طبقہ ترکوں سے ہمدردی رکھتا ہے مگر وہ کسی طرح بھی سلطان ترکی کو خلیفۃ المسلمین ماننے کے لئے تیار نہیں۔اسی طرح اہل حدیث میں سے گو بعض خلافتِ عثمانیہ کے ماننے والے ہوں مگر اپنے اصول کے مطابق وہ لوگ بھی صحیح معنوں میں خلیفہ المسلمین سلطان کو نہیں مانتے (اس اعلان کے بعد اہلحدیث کی طرف سے اعلان ہوا کہ وہ ترکی کے بادشاہ کو خلیفۃ المسلمین نہیں مانتے۔ناقل) ہماری احمد یہ جماعت تو کسی صورت میں بھی اس اصل کو قبول نہیں کر سکتی کیونکہ اس کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبل از وقت دی ہوئی اطلاعوں کے ماتحت آپ کی صداقت کے قائم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو اس زمانہ کے لئے مسیح موعود اور مہدی معہود بنا کر مسلمانوں کی ترقی اور استحکام کے لئے مبعوث فرمایا تھا اور اس وقت وہی شخص خلافت کی مسند پر متمکن ہو سکتا ہے جو آپ کا متبع ہو۔۔۔۔۔ان تینوں فرقوں کے علاوہ اور فرقے بھی ہیں جو اسلام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں لیکن خلافت عثمانیہ کے قائل نہیں بلکہ خود اہلسنت و الجماعت کہلانے والے لوگوں میں سے بھی ایک فریق ایسا ہے جو خلافت عثمانیہ کو نہیں مانتاور نہ کیونکر ہو سکتا تھا کہ ایک شخص کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح جانشین تسلیم کر کے وہ اس کے خلاف تلوار اٹھاتے۔پس اندریں حالات ایسے جلسہ کی بنیاد جس میں ترکوں کے مستقبل کے متعلق تمام عالم اسلامی کی رائے کا اظہار مد نظر ہو۔ایسے اصول پر رکھنی جنہیں سب فرقے تسلیم نہیں کر سکتے درست نہیں۔کیونکہ اس سے سوائے ضعف و اختلال کے کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔-------------