انوارالعلوم (جلد 24) — Page 73
انوار العلوم جلد 24 73 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب تردید بھی کرتا ہے لیکن مودودی صاحب حکومت افغانستان کے بیان کے اس حصہ کو بھی ترک کر دیتے ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ ابھی یہ واقعہ زیر تحقیق ہے اور الفضل کی تردید کو بھی چھوڑ دیتے ہیں اور اس امر کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں کہ جن لوگوں کو قتل کیا گیا تھا ان کو عدالت نے مذہبی اختلاف کی بناء پر قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔سیاسی سازش کی بناء پر قتل کرنے کا حکم نہ دیا تھا۔اگر کوئی سیاسی سازش تھی تو حکومت نے کیوں اس کو عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا اور پھر اگر کوئی خطوط پکڑے گئے تھے اور حکومت نے اعلان کیا تھا کہ اس واقعہ کی تفصیل تفتیش کے بعد شائع کی جائے گی“ تو وہ تفصیل بعد میں کیوں شائع نہیں ہوئی۔کیا حکومت کا فرض نہیں تھا کہ وہ اپنے اس بیان کے مطابق بعد میں تفتیش کے نتائج بھی شائع کرتی مگر حکومت افغانستان نے ایسا کبھی نہیں کیا۔مولانا مودودی صاحب نے یہ ٹکڑا جو نقل کیا ہے الفضل سے نقل نہیں کیا برنی صاحب کی کتاب سے نقل کیا ہے بلکہ اُنہوں نے قریباً سب حوالے بغیر دیکھے برنی صاحب کی کتاب سے نقل کئے ہیں چنانچہ ہم نے ان کے حوالے برنی صاحب کی کتاب سے ملا کر دیکھے ہیں۔پانچ حوالوں کا ہمیں اب تک ثبوت نہیں مل سکا مگر باقی سارے کے سارے حوالے برنی صاحب کی کتاب سے نقل کئے گئے ہیں جس کی دلیل یہ ہے کہ برنی صاحب نے جس جگہ پر حوالہ نقل کرنے میں غلطی کی ہے اسی جگہ پر مودودی صاحب نے بھی غلطی کی ہے مگر ہم یہ کہنے سے رُک نہیں سکتے کہ برنی صاحب نے اس حوالہ کو پورا نقل کیا ہے مگر مودودی صاحب نے وہ فقرہ جو بتاتا تھا کہ یہ الزام پختہ نہیں بلکہ شکی ہے اس کو حذف کر دیا ہے اور اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ صالحیت کا وہ معیار جس کو وہ پیش کر رہے ہیں وہ برنی صاحب کے معیار سے بھی نیچے ہی ہے کیونکہ برنی صاحب باوجود مذہبی لیڈر نہ ہونے کے اور کسی صالح جماعت کے قائم کرنے کے مدعی نہ ہونے کے اس فقرہ کو درج کرتے ہیں لیکن مودودی صاحب اس فقرہ کو حذف کر جاتے ہیں۔