انوارالعلوم (جلد 24) — Page 68
انوار العلوم جلد 24 68 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب ورنہ جہاد کا مسئلہ قرآن کریم سے بھی ثابت ہے اور حدیث سے بھی ثابت ہے اور کوئی احمدی اس کا منکر نہیں ہو سکتا اور نہ بانی سلسلہ احمدیہ اس کے منکر تھے۔بانی سلسلہ احمدیہ نے ہمیشہ ہی جہاد کی اس تعریف کی تائید کی ہے جو قرآن اور حدیث سے ثابت ہے یعنی اگر کوئی قوم اسلام کے مٹانے کے لئے مسلمانوں پر حملے کرے تو سب مسلمانوں پر جو کسی ایک امام کے تابع ہوں فرض ہوتا ہے کہ وہ مل کر ان دشمنوں کا مقابلہ کریں اور اسلام کو اس مصیبت سے بچائیں۔بانی سلسلہ احمدیہ صرف اس بات کے خلاف تھے کہ اکا دُکا مسلمان اُٹھ کر ایک ایسی حکومت کے افراد کو قتل کرنا شروع کر دے جس کے ملک میں مسلمان امن سے رہ رہے ہوں اور جن کے ساتھ ان کی کوئی لڑائی نہ ہو یا کسی ملک کے لوگ دوسری معاہد حکومت سے جنگ شروع کر دیں اور اس کا نام جہاد رکھیں۔بانی سلسلہ احمدیہ کے ان عقائد سے خود مودودی صاحب کو بھی اتفاق ہے اور تمام علماء ہند وستان کو بھی اتفاق تھا اور اب بھی پاکستان کے علماء کو اتفاق ہے۔اگر ہمارا یہ دعویٰ غلط ہے تو مودودی صاحب بتائیں کہ اُنہوں نے کتنے انگریز مارے تھے۔کیا جہاد ان پر فرض نہیں تھا یا دوسرے علماء احراری یا دیو بندی یا بریلوی بتائیں کہ اُنہوں نے کتنے انگریز مارے تھے۔کیا ان پر جہاد فرض نہیں تھا؟ پس حضرت مرزا صاحب نے اگر وہی بات کہی جو عملاً ہر مسلمان عالم کر رہا تھا تو ان پر کیا اعتراض ہے۔خود مودودی صاحب اپنی کتاب حصہ اوّل کے صفحہ 78،77 پر لکھتے ہیں کہ :- ”ہندوستان اس وقت بلاشبہ دارالحرب تھا جب انگریزی حکومت یہاں اسلامی سلطنت کو مٹانے کی کوشش کر رہی تھی۔اس وقت مسلمانوں کا فرض تھا کہ یا تو اسلامی سلطنت کی حفاظت میں جانیں لڑاتے یا اس میں ناکام ہونے کے بعد یہاں سے ہجرت کر جاتے لیکن جب وہ مغلوب ہو گئے ، انگریزی حکومت قائم ہو چکی اور مسلمانوں نے اپنے پرسنل لاء پر عمل کرنے کی آزادی کے ساتھ یہاں رہنا قبول کر لیا تو اب یہ ملک دارالحرب نہیں رہا۔اس لئے کہ یہاں اسلامی قوانین سور