انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 67

انوار العلوم جلد 24 67 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی شائع کیا ہے۔کابل کے دو اشخاص ملا عبد الحلیم چهار آسیانی و ملانور علی دکاندار قادیانی عقائد کے گرویدہ ہو چکے تھے اور لوگوں کو اس عقیدہ کی تلقین کر کے انہیں اصلاح کی راہ سے بھٹکا رہے تھے۔۔۔۔۔ان کے خلاف مدت سے ایک اور دعویٰ دائر ہو چکا تھا اور مملکت افغانیہ کے مصالح کے خلاف غیر ملکی لوگوں کے سازشی خطوط ان کے قبضے سے پائے گئے جن سے پایا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے دشمنوں کے ہاتھ بک چکے تھے “۔130 ہو تھی دلیل کے طور پر اُنہوں نے میاں محمد امین صاحب قادیانی مبلغ کا ایک حوالہ پیش کیا ہے کہ چونکہ سلسلہ احمدیہ اور برٹش حکومت کے باہمی مفاد ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اس لئے میں روس میں جہاں تبلیغ کرتا تھا وہاں گورنمنٹ انگریزی کی خدمت گزاری بھی مجھے کرنی پڑتی تھی۔131 پانچویں دلیل کے طور پر اُنہوں نے ”الفضل“ کا ایک اور حوالہ دیا ہے جس میں یہ درج ہے کہ ایک جرمن وزیر نے جب احمد یہ عمارت کے افتتاح کی تقریب میں شمولیت کی تو وہاں کی گورنمنٹ نے اس سے باز پرس کی کہ احمدی تو انگریزوں کے ایجنٹ ہیں تم ایسی جماعت کی کسی تقریب میں کیوں شامل ہوئے ہو۔132 مسئلہ جہاد کے متعلق جماعت احمدیہ کا مسلک (12- الف) مودودی صاحب کے پہلے حوالہ سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ بانی سلسلہ احمدیہ نے یہ لکھا کہ :- ” جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے چلے جائیں گے “۔مولانا مودودی صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس جگہ جہاد کے وہ معنے نہیں ہیں جو قرآن کریم کی آیات اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ملفوظات سے ثابت ہیں۔اس جگہ پر جہاد سے مراد وہ غلط عقیدہ ہے جو کہ آجکل کے مسلمانوں میں پھیل گیا ہے۔