انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 593 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 593

انوار العلوم جلد 23 ہونا چاہتے ہیں۔593 صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے دفاتر کے افتاح۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ شہروں کا بسانا کوئی آسان کام نہیں ہو تا۔تغلق بادشاہ نے اپنے نام پر تغلق آباد بسانا چاہا لیکن باوجود اس کے کہ وہ سارے ہندوستان کا بادشاہ تھاوہ یہ شہر آباد نہ کر سکا۔پس نئی جگہوں پر شہر بسانا اور پھر کسی سکیم کے ماتحت شہر بسانا آسان کام نہیں ہوتا۔بعض شہر اتفاقی طور پر بس جاتے ہیں لیکن ارادہ کے ساتھ شہر بسانا ہو تو وہ نہیں بستا۔لوگوں نے ہزاروں شہر بسائے جن میں سے صرف بیسیوں رہ گئے ہیں باقی سب اُجڑ گئے۔صرف بغداد ایسا شہر ہے جسے مسلمانوں نے ارادہ کے ساتھ بسایا تھا اور وہ بس گیا لیکن جو رونق اس کی پہلے زمانہ میں تھی اب نہیں رہی۔کسی زمانہ میں اس کی آبادی چالیس لاکھ تھی اب دو لاکھ ہے۔اسی طرح بعض اور شہر بھی تھے جو بسائے گئے لیکن ان میں سے اکثر اُجڑ گئے اور ان کی جگہ ایسے شہر ترقی کر گئے جو اقتصادی وجوہ سے یا پبلک میں ایک خاص رو چل جانے کی وجہ سے خود بخود آباد ہو گئے تھے۔پس ہمارا کام ایسا تھا کہ حکومت کو پبلک میں اسے بطور نمونہ پیش کرنا چاہئے تھا اور ہمیں اس کارنامہ پر شاباش دینی چاہئے تھی بلکہ چاہئے تھا کہ وہ فخر کرتی کہ اس غریب جماعت نے جو اپنا سب کچھ لٹا کر یہاں آئی تھی ایک الگ شہر آباد کر لیا۔کئی سوسائٹیاں اپنے ارادہ میں ناکام رہیں اور ہمیں خدا تعالیٰ نے یہ موقع دیا کہ ہم نے باوجو د کم مائیگی اور سامان اور ذرائع کے محدود ہونے کے شہر بسا لیا۔یہ کتنی بڑی خدمت تھی ملک کی کہ اتنی بڑی تعداد انسانوں کی جو لاہور میں بس رہی تھی ہم نے اسے یہاں آباد کر دیا اور لاہور کی Congestion کو دور کر دیا۔چھ سات ہزار نفوس کو ہم لاہور سے نکال لائے۔آخر شہری طور پر یہ کتنا بڑا فائدہ ہے جو ہم نے لاہور کو پہنچایا۔چاہئے تھا کہ دوسری جماعتیں بھی ہم سے نمونہ لیتیں مگر بجائے اس کے کہ وہ ہماری نقل میں قصبات تعمیر کرتے چونکہ وہ یہ کام نہ کر سکے اس لئے اُنہوں نے ہم پر بغاوت کا الزام لگادیا اور کہار بوہ جو اڑھائی تین میل کا علاقہ ہے اور ہر قسم کے سامانوں سے محروم ہے ملک کے لئے خطرناک قسم کی ٹر نگ بن گیا ہے۔یہ غلط اور کمزور ذہنیت کا مظاہرہ تھا جو کیا گیا۔تعلیم یافتہ طبقہ کو