انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 576 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 576

انوار العلوم جلد 23 576 اپنی روایات زندہ رکھو اور مستقل ماٹو تجویز کرو ان باتوں کا اُس پر اتنا اثر ہو گا کہ جب بھی لڑنے کا موقع آئے گاٹنی ہوئی باتیں اُسے یاد آجائیں گی۔وہ جان کی پرواہ نہیں کرے گا اور کہے گا کہ جب میرے ماں باپ نے قربانیاں کی تھیں تو میں کیوں نہ قربانی کروں۔گویا ایک آدمی کو قربانی کے وقت اس کے ماں باپ پیچھے سے دھکا نہیں دیتے اور ایک کو چار پانچ سو سال کے باپ دادے جن کی روایات اُسے معلوم ہوتی ہیں قربانی کے وقت اُسے آگے کی طرف دھکا دیتے ہیں۔اس لئے وہ قربانی اس کے لئے آسان ہو جاتی ہے اور وہ اُسے کر گزرتا ہے۔مغلوں کو دیکھ لو قریباً گیارہ سو سال سے یہ معروف ہیں۔اس سے پہلے یہ لوگ منگولیا کے علاقے میں رہتے تھے جو ایک برفانی علاقہ ہے۔اس لئے کسی کو یہ علم نہیں کہ اُن کی وہاں کیا شان تھی۔تاریخ اس پر بہت کم روشنی ڈالتی ہے۔گیارہ سو سال ہوئے یہ لوگ فاتح ہوئے۔اب ہوشیار مغل ماں باپ اپنے بچوں پر یہ اثر ڈالتے رہتے ہیں کہ تمہارے باپ دادوں کے یہ کیریکٹر تھے ، وہ جنگجو تھے ، انہوں نے کئی ملک فتح کئے، اُنہوں نے ایک طرف یورپ کو فتح کیا تو دوسری طرف ہندوستان اور چین تک وہ چلے گئے اور سینکڑوں سال تک اُنہوں نے ان علاقوں کو قبضہ میں رکھا۔اس لئے تم بھی آگے بڑھو اور دنیا کو فتح کرنے کی کوشش کرو۔ان خیالات کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وقت آنے پر وہ پیچھے نہیں ہٹے گا بلکہ آگے بڑھے گا اور پھر وہ اکیلا نہیں لڑ رہا ہو گا بلکہ اُس کے باپ دادے اُسے پیچھے سے دھگا دے رہے ہوں گے۔لیکن ایک ایسی قوم کا آدمی جس کی ہسٹری اور تاریخ محفوظ نہیں، اُسے یہ پتہ ہی نہیں کہ اس کے باپ دادے شریف تھے یا بد معاش تھے ، بہادر تھے یا بُزدل تھے، وہ میدانِ جنگ میں اکیلا لڑ رہا ہو گا اور اکثر اوقات وہ بُز دلی دکھا جائے گا۔غرض روایات ایک جتھا بنا دیتی ہیں۔اس لئے روایتوں کا محفوظ رکھنا قوم کی ترقی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔اسی لئے یورپ میں سکولوں اور کالجوں نے اپنے اپنے مائو مقرر کئے ہوئے ہیں اور طلباء اور پروفیسروں کا کام ہوتا ہے کہ وہ اس قسم کے اخلاق کو اپنے اندر پیدا کریں اور پھر انہیں دوسروں کے اندر بھی جاری کرنے کی کوشش کریں۔