انوارالعلوم (جلد 23) — Page 559
انوار العلوم جلد 23 559 مسئلہ خلافت فوت ہو گئے ہیں تو سب لوگوں پر غم کی کیفیت طاری ہو گئی اور سب نے یہی سمجھا کہ اب ملکی حالات کے ماتحت اسلام پراگندہ ہو جائے گا۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ اب کیا ہو گا؟ پیغامبر نے کہا آپ کی وفات کے بعد حکومت قائم ہو گئی ہے اور ایک شخص کو خلیفہ بنالیا گیا ہے۔انہوں نے دریافت کیا کہ کون خلیفہ مقرر ہوا ہے ؟ پیغامبر نے کہا ابو بکر ابو قحافہ نے حیران ہو کر پوچھا کون ابو بکر ؟ کیونکہ وہ اپنے خاندان کی حیثیت کو سمجھتے تھے اور اس حیثیت کے لحاظ سے وہ خیال بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ان کے بیٹے کو سارا عرب بادشاہ تسلیم کر لے گا۔پیغامبر نے کہا ابو بکر جو فلاں قبیلہ سے ہے۔ابو قحافہ نے کہا وہ کس خاندان سے ہے ؟ پیغامبر نے کہا فلاں خاندان سے۔اس پر ابو قحافہ نے دوباره دریافت کیا وہ کس کا بیٹا ہے؟ پیغامبر نے کہا ابو قحافہ کا بیٹا۔اس پر ابو قحافہ نے دوبارہ کلمہ پڑھا اور کہا۔آج مجھے یقین ہو گیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی تھے۔ابو قحافہ پہلے صرف نام کے طور پر مسلمان تھے لیکن اس واقعہ کے بعد اُنہوں نے سچے دل سے سمجھ لیا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دعویٰ میں راستباز تھے کیونکہ حضرت ابو بکر کی خاندانی حیثیت ایسی نہ تھی کہ سارے عرب آپ کو مان لیتے۔یہ الہی دین تھی مگر بعد میں مسلمانوں کی ذہنیت ایسی بگڑی کہ اُنہوں نے یہ سمجھنا شروع کیا کہ یہ فتوحات ہم نے اپنی طاقت سے حاصل کی ہیں۔کسی نے کہنا شروع کیا کہ عرب کی اصل طاقت بنو امیہ ہیں اس لئے خلافت کا حق ان کا ہے، کسی نے کہا بنو ہاشم عرب کی اصل طاقت ہیں، کسی نے کہا بنو مطلب عرب کی اصل طاقت ہیں، کسی نے کہا خلافت کے زیادہ حقدار انصار ہیں جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھروں میں جگہ دی۔گویا تھوڑے ہی سالوں میں مسلمان مار بڈ (Morbid) ہو گئے اور ان کے دماغ بگڑ گئے۔ان میں سے ہر قبیلہ نے یہ کوشش کی کہ وہ خلافت کو بزور حاصل کرلے۔نتیجہ یہ ہوا کہ خلافت ختم ہو گئی۔پھر مسلمانوں کے بگڑنے کا دوسرا سبب انار کی تھی۔اسلام نے سب میں مساوات کی روح پیدا کی تھی لیکن مسلمانوں نے یہ نہ سمجھا کہ مساوات پیدا کرنے کے معنے