انوارالعلوم (جلد 23) — Page 49
انوار العلوم جلد 23 49 اخبار ”پیغام صلح کے اس بیان کی تردید کہ مبائعین۔واقف نہیں تھے۔جب وہ " پیغام صلح " میں وہ حوالے پڑھتے تھے تو بوجہ نیا علم ہونے کے ان کے دلوں میں مشبہ پیدا ہوتا تھا اور بعض کے دلوں میں غصہ پیدا ہو تا تھا۔اب جماعت احرار نے خود مطالعہ کر کے غیر مبائعین سے بھی زیادہ ہمارے حوالے نکال لئے ہیں اور ایک ایک حوالہ کے ساتھ دس دس جھوٹ بھی ملالئے ہیں۔اب پیغام صلح میں اس قسم کی بحث چھیڑنے سے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ زیادہ سے زیادہ وہ یہ امید کر سکتے ہیں کہ ہم اس کی تردید کریں گے ، تو وہ اس کو اچھالیں گے لیکن وہ ہمارے جن حوالوں کو اچھالیں گے ایک ایک حوالے میں دس دس جھوٹ ملا کر احرار اس کو خوب پھیلا چکے ہیں اور ہمارے حوالے بگڑی ہوئی خطرناک صورت میں عوام الناس غیر احمدیوں کے سامنے آچکے ہیں اس لئے اب یہ کھیل پر انا ہو چکا ہے اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہو گا۔ہم ممنون ہیں عظمند غیر مبائعین کے کہ انہوں نے موجودہ جھگڑے میں اس بات کو خوب محسوس کیا کہ یہ تلوار صرف مبائعین پر ہی نہیں چل رہی غیر مبائعین پر بھی چل رہی ہے۔غیر احمدی علماء نے صاف فتویٰ دے دیا ہے کہ اس بات کا کوئی سوال ہی نہیں کہ مرزا صاحب مجدد تھے یا نہیں۔سوال یہ ہے کہ مرزا صاحب مرتد تھے اور کافر تھے۔چنانچہ مولوی عبد الحامد صاحب بدیوانی کا خط ناظر صاحب دعوت و تبلیغ کو اس مضمون کا آچکا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ :- ”جناب مرزا کے دعاوی و بیانات پر نظر رکھنے والے افراد کی آپ حضرات کے بارے میں جو رائے ہے ، وہ ظاہر ہے جس شخص نے حضرات انبیاء کرام کی اہانت کی ہو حضرات اہل بیت اطہار سے اپنے مقام کو بڑھایا ہو ، صفاتِ احدیت کو خود اپنی ذات میں جمع کیا ہو ، ان کے مسجد دیا مسیح موعود ماننے والوں کو بھی ہم قادیانیوں جیسا ہی سمجھتے ہیں“۔غرض سب عقلمند غیر مبائعین نے سمجھ لیا ہے کہ ان حالات میں تبر حضرت سیح موعود علیہ السلام پر پڑ رہا ہے کسی ایک جماعت پر نہیں پڑ رہا۔اور مخالفت کسی ایک حصہ کی نہیں بلکہ ساری احمدیت کی ہے اور بقول زمیندار صرف دمشقی اور اندلسی کا