انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 46

انوار العلوم جلد 23 46 اخبار ”پیغام صلح کے اس بیان کی تردید کہ مبائعین نے۔میں دنیا میں غلط فہمی کون سی رہ گئی ہے۔باقی رہا یہ کہ میرے متعلق آپ کو یہ خیال پید اہو گیا ہے کہ میں نے اپنے عقائد بدل لئے ہیں تو اس وہم کا ازالہ میرے اختیار میں نہیں۔جو نے نہیں لکھا آپ اپنے خطوں میں میری طرف منسوب کرتے ہیں اور اب اخبار میں بھی شائع کر رہے ہیں۔اس مرض کا علاج میرے پاس نہیں ہے۔میرے عقائد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق وہی ہیں جو آپ کی زندگی میں تھے ، جو آپ کے بعد آج تک رہے اور آئندہ انشاء اللہ رہیں گے۔میں نے جو آخری خط میاں محمد صاحب کو لکھا تھا وہ میں ذیل میں درج کرتا ہوں۔اس کو پڑھ کر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔میرے خط کی عبارت یہ ہے:۔مگر می میاں صاحب! اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ آپ کا خط ملا۔میری تحریر سے کچھ مترشح ہوتا ہے یا نہیں یہ تو آپ ہی سمجھ سکتے ہیں۔میں نے تو جو کچھ لکھا تھا سادہ عبارت میں ایک مفہوم ادا کیا تھا۔اصل میں ایسے مسائل خط و کتابت سے طے نہیں ہوتے۔یا کتابوں سے یا ملاقاتوں سے یا پھر اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینے سے طے ہوتے ہیں۔یعنی جب انسان سمجھ لیتا ہے کہ اب ملاقات یا کتابوں کا مطالعہ بے فائدہ چیز ہے۔آپ نے میرے ایک حوالہ کا ذکر کیا ہے مگر کتاب یا اخبار کا نام اور صفحہ وغیرہ درج نہیں کیا۔آپ نے جو الفاظ لکھے ہیں وہ مجھے یاد نہیں۔آپ کہتے ہیں کہ اخباروں میں اس حوالہ کا ذکر آچکا ہے۔یہ درست ہو گا مگر وہ اخبار آپ نے پڑھے ہیں، میں نے نہیں پڑھے۔اس لئے جب تک حوالہ آپ نہ لکھیں میرے لئے اسے دیکھنا مشکل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے 1901 ء سے پہلے کے حوالوں کو اگر میں نے کسی جگہ منسوخ قرار دیا ہے تو اسی جگہ سے یہ بھی ظاہر ہے کہ میں نے کون سی چیز منسوخ قرار دی ہے ؟ جو چیز منسوخ ہوئی وہ صرف نبوت کی تعریف ہے۔یہ فقرہ جو میں نے لکھا ہے بعینہ یہی مضمون حقیقتہ النبوۃ میں بھی بیان ہے۔چنانچہ