انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page v of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page v

1953ء میں جماعت کے خلاف شورش بپا کی گئی اور جماعتی اموال و نفوس کو نقصان پہنچانے کی سازش کی گئی۔ان فسادات کے لئے حکومت نے ایک تحقیقاتی عدالت کا کمیشن قائم کیا جو کہ جسٹس منیر اور جسٹس کیانی پر مشتمل تھا۔اس کمیشن نے وحی و نبوت کے حوالے سے دس سوالات کے جوابات طلب کیے۔ان سوالات کے جوابات حضرت مصلح موعود نے بڑی شرح وبسط کے ساتھ دیے جو “ مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ ” کے نام سے شائع بھی ہوئے۔یہ قیمتی علمی خزانہ بھی اس کتاب کی زینت ہے۔اسی طرح صدر انجمن سے عدالتی کمیشن نے سات سوالات مسلمان اور کافر کی تعریف اور حیثیت کے حوالہ سے بھجوائے انکا جواب بھی حضرت مصلح موعود نے تحریر فرمایا یہ بھی اس جلد کا حصہ ہے۔وو حضرت مصلح موعود 1953ء میں دورہ کراچی پر تشریف لے گئے۔قیام کراچی کے دوران مختلف تقاریب سے حضور نے خطابات فرمائے یہ خطابات بھی جلد ھذا کی زینت ہیں۔جلد ھذا میں شامل تقاریر و تحریرات حضرت مصلح موعود کی ولولہ انگیز قیادت اور آپ کے تجر علمی کی آئینہ دار ہیں۔ان تحریرات کے مطالعہ سے جہاں ایمان ترقی کرتا ہے اور علم و معرفت میں اضافہ ہوتا ہے وہاں اس کے مطالعہ سے تاریخ احمدیت اور تاریخ اقوام عالم سے بھی آگاہی ملتی ہے۔یہ پر شوکت تقاریر اور ولولہ انگیز خطابات یقیناً احباب جماعت کے ازدیاد علم اور ازدیاد ایمان کا موجب ہوں گے۔انشَاءَ اللهُ اس جلد کی تیاری کے مختلف مراحل میں حسب سابق بہت سے بزرگان اور مربیان سلسلہ نے اس اہم اور تاریخی کام کی تدوین و اشاعت میں خاکسار کی عملی معاونت فرمائی ہے۔مربیان سلسلہ نے پروف ریڈنگ، حوالہ جات کی تلاش و ترتیب، مسودات کی نظر ثانی، اعراب کی درستگی، RECHECKING اور متعدد متفرق امور کے سلسلہ میں دلی بشاشت اور لگن سے اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔تعارف کتب مکرم حنیف احمد محمود صاحب نائب ناظر اصلاح و ارشاد مرکزیہ کا تحریر کردہ ہے۔فَجَزَاهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ