انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 434

انوار العلوم جلد 23 434 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ وہ حقیقت لغوی مُراد نہیں ہوتی۔نیز کیا غیر شیعہ مسلمانوں کے لئے یہ جائز ہے کہ شیعوں کو قتل کرنا شروع کر دیں۔اُن کے گھروں کو آگ لگا دیں اور اُن کا ساز و سامان کوٹ لیں اور جب اس فساد کے اسباب کے بارہ میں تحقیقات شروع ہو تو مجلس عمل کی طرح یہ تحریری بیان داخل کر دیں کہ چونکہ شیعوں کے اماموں نے تمام غیر شیعہ مسلمانوں کو ” اولا د بغایا “ اور ”نطفہ شیطان “ قرار دیا تھا۔اس لئے اشتعال انگیزی اور فسادات کی ذمہ داری خود شیعوں پر ہے۔10-حضرت امام اعظم ابو حنیفہ فرماتے ہیں:۔مَنْ شَهِدَ عَلَيْهَا بِالزِّنَا فَهُوَ وَلَدَ الزَنَاءِ“ _ 402 یعنی جو حضرت عائشہ پر زنا کی تہمت لگائے وہ ولد الزنا ہے۔تخص اس عبارت میں بھی حضرت امام اعظم کا منشاء محض اظہارِ ناراضگی ہے نہ کہ معترض کے نسب پر اعتراض۔خلاصہ کلام یہ کہ آئینہ کمالات اسلام صفحہ 547 کی عبارت میں غیر احمدی مسلمانوں کے بارے میں کوئی سخت لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔جن لوگوں کی نسبت وہ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں وہ معدودے چند مخصوص افراد تھے جو فوت ہو چکے۔موجودہ زمانہ کے لوگوں کا اِس عبارت سے قطعا کوئی تعلق نہیں اور اس لفظ کے معنی صرف ہدایت سے ڈور سرکش اور متکبر انسانوں کے ہیں، نہ کہ کنجریوں کی اولاد۔اس سلسلہ میں آخری گزارش یہ ہے کہ آئینہ کمالات اسلام 1893ء میں شائع ہوئی۔یہ عبارت عربی زبان میں ہے جس کو عام مسلمان سمجھ ہی نہیں سکتے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اس کی اشاعت کے 18 سال بعد تک زندہ رہے۔آپ کی زندگی میں بلکہ آپ کی وفات کے بعد بھی غالباً 1933 ء یا 1934ء تک کسی غیر احمدی عالم نے اس عبارت کا مخاطب غیر احمدی مسلمانوں کو قرار نہیں دیا۔سب سے پہلے 1933ء یا 1934ء میں مجلس احرار نے اس عبارت کا خود ساختہ ترجمہ شائع کیا تو اسی وقت جماعت احمدیہ نے بذریعہ اشتہارات و اخبارات و کتب و رسائل یہ اعلان کر دیا تھا کہ ”ذریۃ البغایا“ کے