انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 419

انوار العلوم جلد 23 419 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ کمیٹی جب کشمیریوں پر ظلم ہوا تو اس وقت بھی آگے آنے والی جماعت، جماعت احمدیہ ہی تھی۔خود علامہ اقبال نے کشمیر کمیٹی کا صدر امام جماعت احمدیہ کو بنوایا۔دو سال تک احمدی وکیل مفت کشمیر کے مقدمے لڑتے رہے۔مشرق سے لے کر مغرب تک اور شمال سے لے کر جنوب تک جتنے مقدمے اُن دنوں میں مسلمانوں پر کئے گئے اور جتنی گرفتاریاں مسلمانوں کی ہوئیں اُن میں سے پچانوے فیصدی مقدمے احمدیوں نے لڑے اور گرفتار شدگان کی تعداد میں سے اسّی فیصدی کو رہا کرایا۔حالانکہ احمدی وکیلوں کی تعداد غیر احمدی وکیلوں کے مقابلہ میں شاید ایک فیصدی ہو گی۔380 باؤنڈری کمیشن باؤنڈری کمیشن کے موقع پر قائد اعظم کی نظر باؤنڈری کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے لئے صرف چوہدری ظفر اللہ خاں پر پڑی اور جب لیگ نے دیکھا کہ کانگرس شرارت کر کے سکھوں اور بعض اور قوموں کو آگے لا رہی ہے یہ بتانے کے لئے کہ ساری قومیں مسلمانوں کے خلاف ہیں تو لیگ کے کہنے پر جماعت احمدیہ نے بھی اپنا وفد باؤنڈری کمیشن کے سامنے پیش کیا اور اس بات کا اظہار کیا کہ جماعت احمد یہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ رہنا چاہتی ہے اور وہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ ضلع جس میں اُن کا سنٹر ہے وہ پاکستان میں جائے۔ضلع گورداسپور کی ساری آبادی میں مسلمان ساڑھے اکاون فیصدی تھے۔اگر احمدی کافر قرار دے کے اس میں سے نکال دیئے جاتے جیسا کہ احراریوں کا تقاضا تھا تو ضلع گورداسپور کی کل مسلمان آبادی چھیالیس فیصدی رہ جاتی تھی۔اس ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے لیگ نے چاہا کہ احمدی وفد پیش ہو اور اس ضرورت کے ماتحت احمدی وفد پیش ہوا اور اُس نے صفائی سے کہہ دیا کہ ہم مسلمانوں کا حصہ ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ باؤنڈری کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی صرف لیگ یا کانگرس کو اجازت تھی اور دوسری کوئی جماعت انہی کی اجازت سے پیش ہو سکتی تھی۔