انوارالعلوم (جلد 23) — Page 397
انوار العلوم جلد 23 397 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ ان صابرانہ اور عاجزانہ روشوں سے مخالفوں کی شوخی دن بدن بڑھتی گئی اور انہوں نے اس مقدس جماعت کو اپنا ایک شکار سمجھ لیا۔تب اُس خدا نے جو نہیں چاہتا کہ زمین پر ظلم اور بے رحمی حد سے گزر جائے، اپنے مظلوم بندوں کو یاد کیا اور اُس کا غضب شریروں پر بھڑ کا اور اُس نے اپنی پاک کلام قرآن شریف کے ذریعہ سے اپنے مظلوم بندوں کو اطلاع دی کہ جو کچھ تمہارے ساتھ ہو رہا ہے میں سب کچھ دیکھ رہا ہوں۔میں تمہیں آج سے مقابلہ کی اجازت دیتاہوں اور میں خدائے قادر ہوں، ظالموں کو بے سزا نہیں چھوڑوں گا۔یہ حکم تھا جس کا دوسرے لفظوں میں جہاد نام رکھا گیا اور اس حکم کی اصل عبارت جو قرآن شریف میں اب تک موجود ہے یہ ہے أُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ الَّذِينَ أخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقِّ - یعنی خدا نے اُن مظلوم لوگوں کی جو قتل کئے جاتے ہیں اور ناحق اپنے وطن سے نکالے گئے فریاد سُن لی اور اُن کو مقابلہ کی اجازت دی گئی اور خدا قادر ہے جو مظلوم کی مدد کرے۔۔۔۔۔۔۔مگر یہ حکم مختص الزمان والوقت تھا۔ہمیشہ کے لئے نہیں تھا بلکہ اُس زمانہ کے متعلق تھا جب کہ اسلام میں داخل ہونے والے بکریوں اور بھیڑوں کی طرح ذبح کئے جاتے تھے “۔347 پھر فرماتے ہیں:۔عجیب اتفاق یہ ہے کہ عیسائیوں کو تو خالق کے حقوق کی نسبت غلطیاں پڑیں اور مسلمانوں کو مخلوق کے حقوق کی نسبت۔یعنی عیسائی دین میں تو ایک عاجز انسان کو خدا بنا کر اُس قادر قیوم کی حق تلفی کی گئی جس کی مانند نہ زمین میں کوئی چیز ہے اور نہ آسمان میں اور مسلمانوں نے انسانوں پر ناحق تلوار چلانے سے بنی نوع کی حق تلفی کی