انوارالعلوم (جلد 23) — Page iv
صلاحیتوں اور استعدادوں سے نہ صرف احباب جماعت کو مستفیض کرتے رہے بلکہ آپ کی قائدانہ صلاحیتوں اور فکری استعدادوں سے دوسروں نے بھی فائدہ اُٹھایا اور قومیں آپ سے برکت پاتی رہیں۔قرآن کریم کے گہرے علوم و معارف آپ کو عطا کئے گئے۔آپ نے ساری عمر خدمتِ قرآن میں صرف کر کے کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر کیا اور یہ مر تبہ اس شان سے ظاہر ہوا کہ جماعت کے شدید معاند بھی آپ کے علم قرآن کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے اور اُنہوں نے بر ملا کہا کہ تم مرزا محمود کا مقابلہ نہیں کر سکتے کیونکہ اس کے پاس قرآن ہے۔انوار العلوم کی تئیسویں جلد میں شامل تقاریر و تحریرات جو کہ احباب جماعت کی بروقت راہنمائی اور تربیت کے لئے ارشاد فرمودہ اور تحریر کردہ ہیں یہ مواد ہمارے لئے مشعل راہ اور تاریخ احمدیت کا ایک قیمتی سرمایہ ہے۔حضرت مصلح موعود کے قیمتی فرمودات میں مختلف مواقع کے خطابات بھی شامل ہیں۔اس عرصہ میں خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے 1952ء اور 1953ء کے دو اجتماعات کا انعقاد ہوا۔ان مواقع پر حضرت مصلح موعود نے خدام کو قیمتی نصائح اور ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔یہ خطابات اس جلد میں شامل اشاعت ہیں۔جلسہ سالانہ 1952ء کے موقع پر آپ نے افتتاحی، دوسرے روز اور تیسرے روز بھی خطابات ارشاد فرمائے۔اختتامی خطاب کا معرکۃ الآراء موضوع ” تعلق باللہ“ تھا یہ بھی جلد ھذا کی زینت ہے۔اس دور میں مختلف جماعتی دفاتر کے افتتاح ہوئے جن میں دفاتر خدام الاحمدیہ مرکزیہ ، دفاتر صدر انجمن اور دفاتر تحریک جدید شامل ہیں۔ان تاریخی مواقع پر حضور نے قیمتی خطاب فرمائے اور یہ غلط فہمی بھی دور کی جو بعض ذہنوں میں تھی کہ ربوہ دارالہجرت میں مستقل تعمیرات نہیں کرنی چاہئیں۔1952ء کے رمضان میں اختتامی دعا میں آپ تشریف لائے تو غیر معمولی حاضری دیکھ کر آپ نے فرمایا کہ محض رسمی دعا میں شامل ہونا مقصد نہیں اصل مقصد تو درس القرآن میں مہینہ بھر حاضر ہونا اور اس سے مستفیض ہونا ہے۔