انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 374

انوار العلوم جلد 23 374 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ کیا تھا، جو حضرت مسیح علیہ السلام نے کیا تھا، جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کیا تھا اور جو سید احمد صاحب بریلوی نے کیا تھا بلکہ وہی کچھ کیا جو ان علماء نے کیا تھا جو آج احمدیت پر اعتراض کر رہے ہیں۔دیو بند کو مختلف ریاستوں سے مدد ملتی تھی۔کیا کوئی عقلمند کہہ سکتا ہے کہ اگر یہ لوگ انگریزوں کی تعریف نہ کرتے تو وہ ریاستیں ان کو مدد دیتیں؟ بے شک بعض بعض اوقات میں بعض مولویوں نے گورنمنٹ کی مخالفت بھی کی لیکن وہ مولوی بھی موجود ہیں جو گورنمنٹ کی تعریفیں کر کر کے مربعے وصول کیا کرتے تھے لیکن مرزا صاحب نے تو کبھی کوئی مربع نہیں لیا، نہ کوئی خطاب لیا۔پس اگر آپ نے ایک ایسی حکومت کی وفاداری کی تعلیم دی جو مسلمانوں کو اُن کے مذہبی فرائض ادا کرنے سے نہیں روکتی تھی تو اس میں اعتراض کی کیا بات ہے؟ اس پالیسی کا مخالف اسے غلط قرار دے سکتا ہے مگر نیت پر حملہ کرنے کا اسے کوئی حق نہیں۔انگریزی حکومت کی اطاعت اور خوشامد کا الزام اس جگہ یہ بھی یا در کھنا چاہئے کہ اسلامی تعلیم کی رُو سے تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ بغاوت اور فساد کے تمام طریقوں سے بکلی مجتنب رہ کر امن پسند زندگی بسر کریں اور حکومت وقت کی اُس وقت تک کامل اطاعت کریں جب تک کہ وہ حکومت مذہب میں مداخلت نہ کرے۔جماعت احمد یہ کا یہ عقیدہ صرف انگریزی حکومت کے بارے میں نہیں بلکہ ہر ملک اور ہر حکومت کے بارے میں ہے۔جماعت احمدیہ کے نزدیک اسلامی تعلیم یہی ہے۔امن عالم کے قیام کے لئے اس تعلیم کے سوا کوئی تعلیم نہیں جو قابل قبول ہو۔اِسی اُصول کے ماتحت آج بھارت کے مسلمان ہندو حکومت کے ماتحت وفاداری سے زندگی بسر کر سکتے ہیں اور اسی اصول کے ماتحت چین، برما، سیلون، افریقہ ، امریکہ، جاپان اور فرانس و غیرہ ممالک کے مسلمان اپنے اپنے ملکوں کی غیر اسلامی حکومتوں کے ماتحت وفادار شہری کی حیثیت سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔اور اسی اصول کے ماتحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں