انوارالعلوم (جلد 23) — Page 329
انوار العلوم جلد 23 329 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ مسلمانوں کے نزدیک حضرت مسیح آسمان پر زندہ موجود تھے تو حضرت عمرؓ نے یہ کیوں نہ کہا کہ آے ابو بکر آپ کیوں غلط بیانی کرتے ہیں؟ قرآن سے تو ثابت ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں پھر محمد رسول اللہ کس طرح فوت ہو سکتے ہیں۔مگر حضرت عمرؓ نے تو غم کی حالت میں حضرت عیسی کا نام بھی نہیں لیا حضرت موسیٰ کے خدا کے پاس جانے کا ذکر کیا۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ کے کان میں یہ بات کبھی نہیں پڑی تھی کہ حضرت عیسی آسمان پر زندہ ہیں۔نہ غلط طور پر نہ صحیح طور پر۔بعض روایتوں میں حضرت موسی کی بجائے حضرت عیسی کا نام آتا ہے۔اگر یہ روایتیں بھی درست تسلیم کرلی جائیں تب بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت ہے۔قرآنِ کریم میں متعدد دیگر آیات بھی ہیں جو حضرت عیسی کی وفات پر دلالت کرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى وَمُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ 206 اے عیسی میں تجھے وفات دُوں گا اور پھر تجھے اپنی طرف اُٹھاؤں گا اور تجھے کفار کے اُن سارے اعتراضات سے بچاؤں گا جو وہ تجھ پر کرتے ہیں اور تیری جماعت کو قیامت تک دوسرے لوگوں پر غلبہ دُوں گا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے وفات کا ذکر کیا ہے اور پھر رفع کا ذکر کیا ہے اور وفات کے بعد رفع تو سب مومنوں کا ہوا کرتا ہے۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اُمت کے لوگوں کو دُعا سکھاتے ہیں کہ اللَّهُمَّ ارْفَعْنِی۔اے اللہ تُو مجھے اُونچا کر۔207 اسی طرح رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب مومن مر جاتا ہے 208 تو اُس کی رُوح کو اُٹھا کر فرشتے آسمان پر لے جاتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ توفی کے معنی قبض روح کے نہیں لیکن ہماری طرف سے ایک لمبے عرصہ سے یہ چیلنج دیا جارہا ہے اور آج پھر ہم اس چیلنج کو دُہراتے ہیں۔کوئی شخص یہ ثابت کر دے کہ اللہ تعالیٰ فاعل ہو ، ذی روح مفعول ہو اور توفی کے معنی قبض روح کے سوا کچھ اور ہوں تو بانی سلسلہ احمدیہ نے اس کے لئے ایک ہزار روپیہ انعام تو رکھا تھا مگر