انوارالعلوم (جلد 23) — Page 319
انوار العلوم جلد 23 319 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ تا عیسائیوں پر ایک سرزنش کا تازیانہ لگے کہ تم عیسی بن مریم کو خدا بناتے ہو مگر ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس درجہ کا نبی ہے کہ اُس کی اُمت کا ایک فرد نبی ہو سکتا ہے اور عیسیٰ کہلا سکتا ہے۔حالانکہ وہ اُمتی ہے“۔191 پھر اس نبوت کی تعریف فرماتے ہوئے جس کا دعویٰ آپ نے کیا ہے تحریر فرماتے ہیں:۔”میری مراد نبوت سے یہ نہیں ہے کہ میں نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر کھڑا ہو کر نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں۔صرف مُراد میری نبوت سے کثرتِ مکالمت و مخاطبت الہیہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہے۔سو مکالمہ و مخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی۔یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ و مخاطبہ رکھتے ہیں۔میں اُس کی کثرت کا نام بموجب حکم الہی نبوت رکھتا ہوں۔وَلِكُلِّ أَنْ يَصْطَلِحَ “ - 192 اسی طرح اپنی وفات سے صرف تین مہینے پہلے آپ نے فرمایا:- اصل یہ نزاع لفظی ہے۔خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ و مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو اور اس میں پیشگوئیاں بھی کثرت سے ہوں اُسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے۔پس ہم نبی ہیں۔ہاں یہ نبوت تشریعی نہیں جو کتاب اللہ کو منسوخ کرے اور نئی کتاب لائے ایسے دعویٰ کو تو ہم گفر سمجھتے ہیں“۔193 آپ نے یہ جو تعریف فرمائی ہے وہ قرآن کریم میں بھی آتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے علِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ اَحَدًا - إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ۔194 یعنی