انوارالعلوم (جلد 23) — Page 215
انوار العلوم جلد 23 215 تعلق باللہ کہ وہ جو کوئی نہیں تو ضرور کر چکی ہے۔چنانچہ اُس دن سے میں چارپائی پر پڑا ہوں اور حالت روز بروز بد سے بدتر ہوتی چلی جارہی ہے۔آپ خود ہی انصاف فرمائیں کہ جب محبوب ہی نہ رہا تو اس دنیا میں زندہ رہ کر کیا کرنا ہے۔وہ یہ قصہ سُن کر لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا باللہ کہتے ہوئے وہاں سے اُٹھا اور کہنے لگا کتاب میں سچ لکھا تھا کہ استاد بے وقوف ہوتے و حقیقت یہ ہے کہ بار بار کسی چیز کا ذکر سننے سے بھی محبت ہو جاتی ہے۔بار بار یہ کہنا کہ خدا بڑا پیارا ہے، خدا بڑا محسن ہے، خدا بڑا مہربان ہے، خدا ہم سب کی ضروریات پوری کرتا ہے، خدا ہم سب کو روزی دیتا ہے، خدا ہماری دعائیں سنتا ہے، خدا ہماری مشکلات دور کرتا ہے۔اسی طرح وعظ و نصیحت کی مجالس منعقد کرنا اور خدا تعالیٰ سے محبت پیدا کرنے کی ترغیب دلانا۔یہ چیزیں ایسی ہیں جو رفتہ رفتہ انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کر دیتی ہیں چنانچہ دیکھ لو جہاں سخاوت کا ذکر آئے گالوگ فوراً کہہ اُٹھیں گے کہ حاتم بڑا سخی تھا حالانکہ نہ اُنہوں نے حاتم کو دیکھانہ اُس کے حالات پڑھے محض اس لئے کہ لوگوں کی زبان پر حاتم کا بار بار ذکر آتا ہے ہر شخص حاتم سے محبت کرتا ہے۔اسی طرح ایک پنجابی جو نہ یونان کا نام جانتا ہے نہ اُس ملک کے حالات سے واقفیت رکھتا ہے فوراً کہہ دے گا کہ تو بڑا افلاطون آیا ہے یا جب کوئی شخص اپنی بہادری کی ڈینگیں مارے تو لوگ کہتے ہیں بڑار ستم بنا پھرتا ہے حالانکہ کہا جاتا ہے کہ رستم کوئی حقیقی وجود نہیں تھا محض قصہ کہانیوں میں بہادری کے ذکر کے لئے ایک نام تجویز کر لیا گیا ہے۔پھر اور باتوں کو جانے دو زلیخا کے حسن کے اتنے قصے مشہور ہیں کہ جن کی کوئی حد ہی نہیں۔اچھے معقول ر تعلیم یافتہ آدمیوں نے بعض دفعہ مجھ سے پوچھا ہے کہ کیا یہ سچ ہے کہ زلیخا اتنی حسین تھی کہ اُس سے بڑھ کر اور کوئی حسین عورت نہیں تھی ؟ اب زلیخا مر کے مٹی بھی ہو گئی مگر اُس کے حسن کا چر چا باقی ہے کیونکہ لوگوں میں اُس کا بار بار ذکر آتا ہے۔اسی طرح لیلی ضرور اچھی ہو گی لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ ہماری کئی نوکرانیاں اُس سے اچھی ہوں مگر اس وجہ سے کہ بار بار لیلیٰ کا ذکر آتا ہے اُس کا دماغوں پر ایسا نقشہ کھینچ گیا ہے کہ انسان خیال اور