انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 194

انوار العلوم جلد 23 194 تعلق باللہ (6) جو شخص خدا تعالیٰ پر اپنے کاموں کو چھوڑ دے یعنی تدبیریں سب کرے لیکن یہ یقین کرے کہ نتیجہ اللہ تعالیٰ ہی نے نکالنا ہے اُس کے دل میں بھی اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ جو شخص اپنے کام کو اُس پر چھوڑتا ہے وہ کم سے کم تکلف سے اُس کی طاقتوں اور اُس کے احسان کا اقرار کرتا ہے اور یہ تکلف آخر حقیقت بن جاتا ہے جیسا کہ اکثر دنیا کے کاموں میں ہوتا ہے۔اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے کہ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ 21 جو شخص خدا تعالیٰ پر اپنے کام چھوڑ دیتا ہے اور کہتا ہے یہ مجھے سے نہیں ہو سکتے آپ ہی یہ کام کیجئے اُس کے دل میں بھی اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔(7) جو شخص دنیا میں خدا تعالیٰ کے لئے انصاف کو قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے اُس کے دل میں بھی محبت الہی پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ انصاف کا ترک اپنے یا اپنے رشتہ داروں اور دوستوں اور عزیزوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔انسان اسی لئے انصاف چھوڑتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے اگر میں نے انصاف سے کام لیا تو میری ماں کو نقصان پہنچے گا یا میرے باپ کو نقصان پہنچے گا یا میرے رشتہ داروں کو نقصان پہنچے گا۔پیس انصاف کے ترک کی ایک بڑی وجہ اپنی یا اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کی محبت ہوتی ہے اور یا پھر انصاف کا ترک دشمن کے بغض کی وجہ سے ہوتا ہے۔یہی دو وجوہ نا انصافی کے ہوا کرتے ہیں یعنی دونوں فریق میں سے ایک کی دوستی یا ایک کا بغض۔ظاہر ہے کہ جو نہ اپنی یا اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کی محبت کی پرواہ کرے گانہ دشمن کا بغض اُسے انصاف سے پھیرے گا کوئی اس محبت سے بڑی محبت یا اُس بغض سے بڑا خوف ضرور اُس کے دل میں ہو گا۔جب وہ دیکھتا ہے کہ اگر فلاں مقدمہ کا میں یوں فیصلہ کر دوں تو میرے بچہ کو فائدہ ہو گا یا میرے دوست کو فائدہ ہو گا یا ماں باپ کو فائدہ ہو گا مگر اس کے باوجود وہ نہیں کرتا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی اور بڑی محبت اس کے پیچھے ہے اس لئے وہ انصاف کو ترک نہیں کرتا یا اگر کوئی بڑا دشمن اس کے قابو آ گیا ہے مگر باوجود اس کے کہ یہ اُس سے بدلہ لے سکتا ہے پھر بھی یہ انصاف سے کام لیتا ہے اور دشمنی کی پرواہ نہیں کرتا تو صاف ظاہر ہے