انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 177

انوار العلوم جلد 23 177 تعلق باللہ ڈالے اور اُسے ایسا عذاب دے جو کسی اور کو نہ دیا گیا ہو حالانکہ خدا بڑا رحیم و کریم ہے۔وہ حد سے زیادہ گزرنے والوں سے محبت نہیں کرتا اور نہ حد سے گزرنے والا خدا تعالیٰ سے محبت کر سکتا ہے۔(4) جو شخص خوان ہو یعنی طبیعت میں خیانت کا مادہ رکھتا ہو اُس سے بھی اللہ تعالیٰ محبت نہیں کرتا۔فرماتا ہے اِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَانًا اشيا 74 محبت کہتے ہیں معاملہ کی درستی کو اور خوان کے معنی ہیں بہت بڑا خائن۔محبت کے معاملہ میں تو ایک چھوٹی سی خیانت بھی برداشت نہیں کی جاسکتی کجا یہ کہ کوئی شخص خوان ہو اور پھر اُس سے محبت کی جاسکے۔جو شخص بڑا خائن ہے وہ کسی صورت میں بھی محبت نہیں کر سکتا کیونکہ وہ تعلقات کو نباہ نہیں سکتا۔ایسے شخص کے متعلق یہ خیال کرنا کہ وہ خدا سے محبت کرے گا یا خد ا اُس سے محبت کرے گا بالکل عقل کے خلاف ہے۔(5) اسی طرح جو شخص اثیم ہو یعنی گناہ کی طرف کمال رغبت رکھتا ہو اُس سے بھی خدا تعالیٰ محبت نہیں کرتا۔اشیم کی حالت ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کوئی بڑا قانون شکن ہو اور جس شخص کو قانون شکنی کی عادت پڑی ہوئی ہو وہ جس طرح دنیا کے قانون توڑے گا اسی طرح خدا تعالیٰ کے قانون بھی توڑے گا۔اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مَنْ لَّمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ الله 75 جو شخص یہ سوچتا رہے گا کہ میں نے اس قانون کو توڑ لیا تو کیا حرج ہے، اُس قانون کو توڑ لیا تو کیا حرج ہے وہ خدا تعالیٰ کے قانون بھی توڑتا چلا جائے گا اور اُن کی اطاعت سے ہمیشہ گریز کرے گا۔ہماری جماعت میں ایک شخص ہوا کرتا تھا جسے لوگ فلاسفر فلاسفر کہا کرتے تھے اب وہ فوت ہو چکا ہے اللہ تعالیٰ اُس کی مغفرت فرمائے۔اُسے بات بات میں لطیفے سوجھ جاتے تھے جن میں سے بعض بڑے اچھے ہوا کرتے تھے۔فلاسفر اُسے اسی لئے کہتے تھے کہ وہ ہر بات میں ایک نیا نکتہ نکال لیتا تھا۔ایک دفعہ روزوں کا ذکر چل پڑا۔کہنے لگا مولویوں نے یہ محض ڈھونگ رچایا ہوا ہے کہ سحری ذرا دیر سے کھاؤ تو روزہ نہیں ہو تا۔بھلا جس نے بارہ گھنٹے فاقہ کیا اُس نے پانچ منٹ بعد سحری کھالی تو کیا حرج ہوا۔مولوی جھٹ