انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 147

انوار العلوم جلد 23 147 تعلق باللہ 36 وَلَمْ يَنْفَرُ مِنْهُ 2 اور جس کے پاس آنے سے وحشت پیدا نہ ہو۔جیسے اگر کوئی غیر آکر بیٹھ جائے تو انسان چاہتا ہے کہ وہ جلدی اُٹھ جائے لیکن اگر کوئی بے تکلف دوست آبیٹھے یا بیوی کام کرتے ہوئے آجائے یا بچہ ملنے کے لئے آجائے اور تھوڑی دیر کے بعد جانے لگے تو انسان کہتا ہے کہ ابھی کچھ اور بیٹھو اتنی جلدی کیوں چلے ہو۔یہ انس کی علامت ہوتی ہے لیکن جس سے وحشت ہوتی ہے انسان کا دل چاہتا ہے کہ وہ جلدی علیحدہ ہو جائے۔اسی لئے لغت میں لکھا ہے۔اَلْاُنْسُ ضِدُّ الْوَحْشَةِ 327 انس وحشت کی ضد کو کہتے ہیں۔پھر لکھا ہے الْإِنْسَ خِلَافَ الْجِنِّ۔28 انس جن کے خلاف اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔وَالْأَنْسُ خِلَافَ النفور 2 اور انس، نفور کے خلاف چیز ہے۔کہتے ہیں مجھے فلاں سے اُنس ہے یعنی مجھے اُس سے نفرت نہیں۔وَالْإِنْسِيُّ مَنْسُوبٌ إِلَى الْأُنْسِ يُقَالُ ذُلِكَ لِمَنْ كثر انس اور انسیسٹی کے معنی ہوتے ہیں انسانوں سے تعلق رکھنے والی چیز خصوصاً جس چیز کا زیادہ انس ہو یا جو چیز زیادہ انس کرے اُسے انسی کہتے ہیں۔وَلِكُلِّ مَا يُونَسُ بِهِ 41 اور جس کے ساتھ تعلق ہو اُسے بھی انسی کہتے ہیں۔وَلِهَذَا قِيلَ انْسِيُّ الدَّابَةِ لِلْجَانِبِ الَّذِي يَلِى الرَّاکب 42 اسی لئے گھوڑے کی وہ جانب جو سوار کی طرف ہو اُسے اِنْسِئُ الدَّابَةِ کہیں گے۔مثلاً اس وقت میرے سامنے لاؤڈ سپیکر پڑا ہے اس کا ایک حصہ میری طرف ہے اور دوسرا حصہ آپ لوگوں کی طرف۔یہ حصہ میر انسیسی ہے اور وہ حصہ آپ لوگوں کا انسیسی ہے۔گویا جو حصہ کسی کی طرف جھکتا ہو اور اس سے ملتا ہو اُسے انسی کہیں گے وَالْإِنْسِيُّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَايَلِی الْإِنْسَان 43 اور ہر وہ چیز جس کا انسان کی طرف منہ ہوتا ہے اُسےانسی کہتے ہیں۔اس تشریح سے ظاہر ہے کہ جہاں رغبت کے معنی وسعت تعلق کے ہیں وہاں انس کے معنی صرف رغبت کے نہیں بلکہ اس کے یہ بھی معنی ہیں کہ وہ چیز قریب بھی آگئی ہے اور اُس نے اپنا منہ ادھر کر لیا ہے۔پس اُنس دل کی تسلی اور قرب پر دلالت کرتا ہے۔خالی شوق سے نہ دل کی تسلی ہوتی ہے اور نہ اپنے محبوب کا قرب حاصل ہوتا ہے۔اسی طرح رغبت صرف یہ دلالت کرتی تھی کہ مجھے اُس کے ساتھ محبت ہے لیکن انس