انوارالعلوم (جلد 23) — Page 8
انوار العلوم جلد 23 8 خدام کو نصائح اگر خدا تعالیٰ تو بہ قبول کرنے سے انکار کر دے تو کوئی شخص گناہ سے نجات حاصل نہ کرے۔تو بہ ضمیر کو روشن کرتی ہے اور انسان کو گناہ سے روکتی ہے۔باوجو د اس کے کہ خداتعالی دیکھ رہا ہوتا ہے کہ اس شخص نے تو بہ توڑ دینی ہے، باوجو د اس کے کہ وہ جانتا ہے کہ یہ پھر فساد کرے گا، لڑائی کرے گا، گالیاں دے گا اور جھوٹ بولے گا وہ اس کی توبہ کو قبول کر لیتا ہے گویا خدا تعالیٰ باوجود علم غیب رکھنے اور جاننے کے کہ مجرم دوبارہ مجرم کرے گا وہ اس سے حاضر والا معاملہ کرتا ہے لیکن ہم باوجود علم غیب نہ ہونے کے خدا تعالیٰ سے مستقبل والا معاملہ کرتے ہیں۔اس سے زیادہ بیوقوفی اور کیا ہو گی۔ہمیں خدا تعالیٰ سے حاضر والا معاملہ کرنا چاہیے۔اگر خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم جنگلوں میں رہیں تو ہمیں جنگلوں میں رہنا چاہیے اور اپنا کام کرتے چلے جانا چاہیے۔ہم چوہوں اور چیونٹیوں کو باہر پھینک دیتے ہیں تو وہ وہیں اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔شہد کی مکھیوں کو دیکھ لو انسان ان کا تیار کیا ہوا شہد حاصل کر لیتا ہے اور انہیں دور پھینک دیتا ہے لیکن وہ وہیں اپنا کام شروع کر دیتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے کام میں کامیاب رہتی ہیں۔اگر وہ اس بات کا انتظار کرتی رہیں کہ انہیں پہلی جگہ ملے تو کام کریں تو ہزاروں چھتے مر جائیں۔اسی طرح اگر تمہیں اپنا گھر نہیں ملتا تو جس گھر میں خدا تعالیٰ نے تمہیں رکھا ہے تمہیں اسی میں فوراً کام شروع کر دینا چاہئے۔خدا تعالیٰ تمہیں واپس لے جائے تو وہاں جاکر کام شروع کر دو لیکن کسی منٹ میں بھی اپنے کام کو پیچھے نہ ڈالو۔مومن ہر وقت کام میں لگارہتا ہے یہاں تک کہ اُسے موت آجاتی ہے۔گویا مومن کے لئے کام ختم کرنے کا وقت موت ہے۔آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے کہ اپنا مرکز تعمیر کر لیا اور خدا کرے کہ انصار اللہ کو بھی اس طرف توجہ پیدا ہو اور وہ اس حماقت کو چھوڑ دیں کہ قادیان واپس جانے کے متعلق بہت سی پیشگوئیاں ہیں اس لئے قادیان ہمیں ضرور واپس ملے گی اور چونکہ قادیان ہمیں واپس ملے گی اس لئے ہمیں یہاں کوئی جگہ بنانے کی ضرورت نہیں۔انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ قادیان کے متعلق جو پیشگوئیاں ہیں وہ مکہ کے متعلق جو پیشگوئیاں تھیں ان سے زیادہ نہیں اور ہم جانتے ہیں کہ یہ پیشگوئیاں ظاہری معنوں کے لحاظ سے پوری نہیں ہوئیں