انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 7

انوار العلوم جلد 23 7 خدام کو نصائح قادیان کے متعلق جو پیشگوئیاں ہیں وہ وہی آیات ہیں جو مکہ کے متعلق نازل ہوئی تھیں۔وہ آیات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر دوبارہ نازل ہوئی ہیں اور جب وہ پیشگوئیاں مکہ کے لئے بھی ظاہری رنگ میں پوری نہیں ہوئیں تو ہم کیا لگتے ہیں کہ یہ کہیں کہ قادیان کے متعلق جو پیشگوئیاں ہیں وہ ظاہری رنگ میں پوری ہوں گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس مکہ تشریف نہیں لے گئے بلکہ مدینہ میں ہی مرکز بنا کر کام کرتے رہے۔صرف آپ حج کے لئے مکہ تشریف لے جاتے تھے اور حج کر کے واپس تشریف لے آتے تھے۔پھر حضرت ابو بکر واپس مکہ نہیں گئے۔حضرت عمر واپس مکہ نہیں گئے ، حضرت عثمان واپس مکہ نہیں گئے ، حضرت علی واپس مکہ نہیں گئے۔یہ سب حج کے لئے مکہ جاتے تھے اور واپس آجاتے تھے۔حکومت کا مر کز مدینہ ہی رہا اور یہیں سے اسلام ارد گرد کے علاقوں میں پھیلا۔پس جب پیشگوئیوں سے کسی جگہ کی عظمت ظاہر ہوتی ہے تو یہ سمجھ لینا کہ یہ پیشگوئیاں ضرور ظاہری رنگ میں پوری ہوں گی حماقت ہے۔چاہے بعد میں وہ پیشگوئیاں ظاہری رنگ میں ہی پوری ہو جائیں لیکن مومن کا یہ کام ہے کہ جس چیز میں خدا تعالیٰ نے اُسے اب رکھا ہے اُسی میں وہ راضی رہے۔خدا تعالیٰ کا معاملہ جو ہمارے ساتھ ہے وہ کتنا عجیب ہے۔ایک چور سیندھ لگاتا ہے اور پھر توبہ کر لیتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ دوسرے دن پھر سیندھ لگائے گا۔پھر وہ دوسرے دن سیندھ لگاتا ہے پھر تو بہ کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔حالانکہ وہ جانتا ہے وہ پھر سیندھ لگائے گا۔پس خداتعالی باوجود اس کے کہ وہ علم غیب رکھتا ہے ہمارے ساتھ رحم کا معاملہ کرتا ہے لیکن ہم لوگ باوجود علم غیب نہ ہونے کے خدا تعالیٰ کے ساتھ مستقبل والا معاملہ کرتے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ بھی ہمارے ساتھ مستقبل والا معاملہ کرے تو چونکہ اُسے علم ہے کہ مجرم دوبارہ مجرم کرے گا اسے علم غیب حاصل ہے اس لئے کسی کی توبہ قبول نہ ہو۔اس طرح ہزاروں لوگ مارے جائیں گے۔ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ گناہ کرتے ہیں تو پھر بعض اوقات بڑی سٹر گل (STRUGGLE) کے بعد اس گناہ سے نجات حاصل کرتے ہیں۔