انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 78

انوار العلوم جلد 23 78 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت، تعمیر ربوہ اور۔۔ایام میں ان کا تو یہ کام ہے کہ وہ بوڑھوں کی بھی مدد کریں اور الفضل کی اشاعت بھی بڑھائیں۔کجا یہ کہ اپنے رسالہ کو نہ چلا سکیں۔پاکستان کے بنیادی اصولوں تفصیلی طور پر تو ابھی مجھے اس کے مطالعہ کا کے متعلق سفارشات موقع نہیں ملا مگر دو باتوں کے متعلق عام طور پر اخبارات میں احتجاج کیا جا رہا ہے ایک تو اس امر پر کہ مغربی اور مشرقی پاکستان میں برابری کا اصول کیوں رکھا گیا ہے اور دوسرا فیڈرل سسٹم پر۔میرے نزدیک اصل پوائنٹ جو ملک کے لئے بہت مضر ہے یہ ہے کہ مولویوں کو یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ جس امر پر چاہیں اعتراض کریں اور قانون سازی میں رکاوٹ ڈالیں۔یہ خیال غلط ہے کہ مولویوں کے صرف ایڈوائزری بورڈ بنائے گئے ہیں انہیں اختیارات نہیں دیئے گئے۔میرے نزدیک ایسا سمجھنے والے مولویوں کی ذہنیت سے ناواقف ہیں۔ترکی میں جب مولویوں کو حکومت میں اقتدار حاصل ہوا تو وہاں یہ حالت ہو گئی کہ انہوں نے بات بات پر فتوی بازی شروع کر دی اور قوم کو خانہ جنگی میں مبتلا کر دیا۔اگر یہاں بھی ان لوگوں کو پنپنے کا موقع دیا گیا تو یہی حالت ہو جائے گی۔مجھے تعجب ہے کہ یہ عالم اور مولوی کہلانے والے ایڈوائزری بورڈ کے راستہ کی بجائے انتخاب کے راستے سے کیوں حکومت میں اقتدار حاصل نہیں کرتے۔اگر وہ واقعی قوم کے نمائندے ہیں جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے تو پھر انہیں اسمبلی کا ممبر ہونا چاہئے نہ کہ ایڈوائزری بورڈ کا اور اگر وہ اسمبلی کے ذریعہ قوم کے نمائندے نہیں بنتے تو پھر دوباتوں میں سے ایک ضرور ماننی پڑے گی۔یا تو یہ کہ قوم ان کی مزعومہ "اسلامی حکومت " نہیں چاہتی اور یا یہ کہ وہ قوم کے نمائندے نہیں ہیں۔ان دونوں صورتوں میں صاف ظاہر ہے کہ ان کے ایڈوائزری بورڈ کی کیا حیثیت ہو گی۔مشرقی بنگال اور مغربی پاکستان میں برابری دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ مشرقی بنگال کو مغربی پاکستان کے مساوی نمائندگی کیوں دی گئی ہے۔یہ درست ہے کہ اسلام کی رو سے