انوارالعلوم (جلد 23) — Page 395
انوار العلوم جلد 23 395 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اس قسم کے جہاد کی کوئی صورت پیدا نہیں تھی۔نہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے یا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے پر کسی شخص کو ملک سے نکالا جاتا تھا، نہ اس لئے کسی قوم پر حملہ کیا جاتا تھا کہ وہ کیوں اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہے ، نہ لوگوں کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ اسلام کو چھوڑ کر کسی دوسرے مذہب کو اختیار کر لیں اور نہ کوئی امام موجود تھا جو مسلمانوں کو منظم کرتا اور جو مسلمانوں کے آگے ہو کر لڑتا جس سے یہ پتہ لگ جاتا کہ وہ شخص لڑائی کروانے میں دیانتدار ہے۔صرف دوسروں کا خون کروا کے تماشا نہیں دیکھ رہا۔پس نہ تو مسلمانوں پر اس قسم کے حملے ہو رہے تھے نہ مسلمان منظم تھے۔مولوی جہاد پر لوگوں کو اکسا دیتے تھے اور آپ مسجدوں میں بیٹھے رہتے تھے اور دوسرے مسلمان طاقتور غیر حکومتوں کی بندوقوں کا شکار ہوتے تھے۔خدا تعالیٰ کی کوئی مدد اُن کو نہیں مل رہی تھی۔حالانکہ اس آیت میں جنگ کرنے والوں سے خدا تعالیٰ وعدہ کرتا ہے کہ اُن کو مدد دی جائے گی۔حضرت مرزا صاحب نے اس کے علاوہ کچھ نہیں لکھا۔یہی جو قرآن کا حکم ہے آپ نے اس کی تشریح کی ہے۔چنانچہ آپ نے اس کے متعلق ایک رسالہ ”جہاد“ لکھا ہے جو بائیس صفحات پر مشتمل ہے۔اس میں آپ تحریر فرماتے ہیں:۔جانا چاہئے کہ جہاد کا لفظ جہد کے لفظ سے مشتق ہے۔جس کے معنے ہیں کوشش کرنا اور پھر مجاز کے طور پر دینی لڑائیوں کے لئے بولا گیا۔343 پھر فرماتے ہیں:۔سو واضح ہو کہ اسلام کو پیدا ہوتے ہی بڑی بڑی مشکلات کا سامنا پڑا تھا اور تمام قومیں اس کی دُشمن ہو گئی تھیں جیسا کہ یہ ایک معمولی بات ہے کہ جب ایک نبی یا رسول خدا کی طرف سے مبعوث ہوتا ہے اور اُس کا فرقہ لوگوں کو ایک گروہ ہونہار اور راستباز اور باہمت اور ترقی کرنے والا دکھائی دیتا ہے تو اس کی نسبت موجودہ قوموں اور فرقوں کے دلوں میں ضرور ایک قسم کا بغض اور حسد پیدا