انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 394

انوار العلوم جلد 23 394 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ (2) ایسے لوگوں کے ساتھ کیا جائے جو کہ دین بدلوانے کے لئے مسلمانوں پر حملہ کریں یا دین کی وجہ سے اُن کو گھروں سے نکالیں۔(3) جہاد میں بھی اس حد تک دشمن کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے جس حد تک وہ خود کرتا ہے۔اگر وہ گھروں سے مسلمانوں کو نکالے تو مسلمان بھی اُن کو گھروں سے نکال سکتے ہیں۔اگر وہ مقدس مقامات کے قریب جنگ کریں تو وہ بھی وہاں جنگ کر سکتے ہیں لیکن مسلمانوں کا فرض ہو گا کہ وہ معابد کی حفاظت کریں اور مذہب میں دخل اندازی نہ کریں۔(4) اور اگر دشمن ایسی جنگ سے رُک جائے تو پھر یہ بھی اس قسم کی جنگ کو ختم کر دیں۔(5) قرآن کریم نے بتایا ہے کہ جو شخص ان شرطوں کے مطابق جنگ کرے گا چاہے وہ کمزور بھی ہو اللہ تعالیٰ اُس کی فتح کے سامان پیدا کر دے گا۔جہاد کے لئے امام کی شرط ایک اور آیت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جہاد صرف منظم صورت میں جائز ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَافَةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَةً 341 یعنی تم کو چاہئے مسلمان جہاد میں شریک ہوں۔جس طرح کہ کفار سارے کے سارے جہاد میں شریک ہیں کیونکہ وہ اس کو مذہبی جنگ بنارہے ہیں۔اب سب کے سب مسلمان تبھی شامل ہو سکتے ہیں جب کوئی امام اُن کو جمع کرنے والا ہو۔چنانچہ اس آیت کی تشریح میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ الْإِمَامُ جَنَّةَ يُقَاتَلُ مِنْ وَ رَائِهِ - 342 امام ایک ڈھال کی طرح ہوتا ہے اس لئے سب مسلمانوں کو اُس کے پیچھے لڑائی کرنی چاہیئے۔یعنی جہاد کے لئے شرط ہے کہ ایک امام اس کا اعلان کرے اور سب مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس کے ساتھ مل کر دینی جنگ میں شامل ہوں اور امام کا فرض ہے کہ دوسرے مسلمانوں سے زیادہ اس جنگ میں شریک ہو۔ان آیتوں اور حدیثوں سے صاف ظاہر ہے کہ بانی سلسلہ احمدیہ کے زمانہ میں