انوارالعلوم (جلد 23) — Page 366
انوار العلوم جلد 23 366 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ فتویٰ لگاتے چلے آئے ہیں۔چہارم: جب غیر احمدیوں نے آپس میں ایک دوسرے پر فتویٰ لگایا اور احمدیوں پر فتویٰ لگایا تو انہوں نے اس کے یہ معنی لئے کہ وہ اسلام کی جامع و مانع تعریف سے بھی باہر ہیں۔جب احمدیوں نے جو اباً اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق غیر احمدیوں پر کوئی فتویٰ لگایا تو اس فتوے میں اُنہوں نے یہ احتیاط کی کہ اُن کو ایمانِ کامل سے تو محروم قرار دیا لیکن اسلام کی جامع و مانع تعریف سے باہر نہیں کیا اور مختلف مواقع پر واضح کر دیا کہ وہ انہیں اسلام کی جامع و مانع تعریف کے اندر شامل رکھتے ہیں۔غیر احمدیوں نے جب احمدیوں پر فتویٰ لگایا تو انہوں نے انہیں دائمی جہنمی قرار دیا لیکن احمدیوں نے جب کسی پر فتویٰ لگایا تو ساتھ ہی یہ کہہ دیا کہ اول تو اس فتویٰ کے یہ معنی نہیں کہ اسلام کی جامع و مانع تعریف سے وہ نکل گئے ہیں۔دوم لفظ گفر کا اگر کسی معنوں میں بھی اُن پر اطلاق ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک بھی قابل مواخذہ ہیں۔اللہ تعالیٰ کا مؤاخذہ محض بد نیتی اور اتمام حجت پر ہوا کرتا ہے۔اگر اُن کی نیت نیک ہے اور اگر اُن پر اتمام حجت نہیں ہوا تو وہ کسی سزا کے مستحق نہیں۔ہفتم: احمدیوں نے متواتر اس بات کا اعلان کیا کہ ہم صلح کرنا چاہتے ہیں۔اگر غیر احمدی اپنے فتوؤں کو واپس لے لیں تو ہم بھی اپنے فتوے واپس لینے کے لئے تیار ہیں اور جماعت کو روکا کہ ایسے الفاظ دوسروں کے متعلق استعمال نہ کیا کرو لیکن غیر احمدیوں نے فتوؤں میں ابتدا بھی کی اور پھر احمدیوں کی امن کی اپیلوں پر کان بھی نہ دھرا اور شروع دن سے آج تک متواتر اُن فتوؤں کو دُہراتے اور پھیلاتے چلے آرہے ہیں۔