انوارالعلوم (جلد 23) — Page 360
انوار العلوم جلد 23 360 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ پبلک میں افتراق پیدا کرنے کا ذریعہ بنائی جائیگی لیکن یہ گفت و شنید بھی 1922 ء تک ہو گئی۔1922ء کے بعد کوئی کتاب امام جماعت احمدیہ کی طرف سے ایسی نہیں نکلی جس میں اس مضمون کے متعلق اظہارِ خیالات کیا گیا ہو۔اگر کوئی تحریر شائع ہوئی ہے تو وہ صلح کی تائید میں شائع ہوئی ہے۔چنانچہ امام جماعت احمدیہ کی طرف سے ایک تحریر ریویو آف ریلیجنز اُردو جولائی 1922 ء میں شائع ہوئی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:۔"جو شخص غیر احمدیوں کو کافر، یہودی اور جاہل بلا ضرورت کہتا پھرتا ہے وہ در حقیقت شریعت کا مجرم اور فتنہ انگیز ہے۔اگر غیر احمدی اُس کے نزدیک کافر ہیں تو اُس کو یہ کہاں سے حق حاصل ہو گیا کہ وہ اُن کو کافر کہتا پھرے۔۔۔۔۔بلاوجہ اور بے ضرورت اس قسم کے مضامین اخبار میں نکالنا اور زبانی کہتے پھر نا واقع میں فتنہ کا موجب ہے اور اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو میں اس کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے اخلاق کو درست کرے ورنہ وہ خدا کے نزدیک گنہگار ہے“۔اسی طرح یکم مئی 1935ء کو آپ کا ایک خطبہ الفضل میں چھپا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ :- اب بھی ہمیں کس طرح بار بار اُن کی طرف سے کافر کہا جاتا ہے اور اخبارات میں لکھا جاتا ہے۔کیا ہمارے اخبارات میں بھی لکھا جاتا ہے کہ احراری کا فر ہیں ؟ ہم تو کہتے ہیں جو کسی کو بلا وجہ کا فر کہتا ہے وہ اُس کی دل آزاری کرتا ہے“۔پس ہماری طرف سے برابر یہ کوشش ہوتی رہی ہے کہ ان الفاظ کو استعمال نہ کیا جائے لیکن احرار اور اُن کے ساتھیوں کی طرف سے ان الفاظ کو کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے اور وہ الفاظ جو کسی زمانہ میں صرف جو ابا استعمال کئے گئے تھے اور جو گزشتہ پچاس برس میں جماعت احمدیہ کی طرف سے کبھی استعمال نہیں کئے گئے اشتعال دلانے کے لئے اُن کا بار بار ذکر کیا جاتا ہے۔حالانکہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر