انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 354

انوار العلوم جلد 23 354 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اسی طرح جزا و سزا کے متعلق آپ فرماتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالحکیم میرے متعلق لکھتا ہے کہ گویا میں نے اپنی کسی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ شخص جو میرے نام سے بھی بے خبر ہو گا اور گو وہ ایسے ملک میں ہو گا جہاں تک میری دعوت نہیں پہنچی وہ کافر ہو جائے گا اور دوزخ میں پڑے گا۔آپ فرماتے ہیں یہ سراسر افتراء ہے۔میں نے اپنی کسی کتاب میں ایسا نہیں لکھا اور پھر فرماتے ہیں کہ :- یہ تو ایسا امر ہے کہ ببداہت کوئی عقل اس کو قبول نہیں کر سکتی۔جو شخص بکلی نام سے بھی بے خبر ہے اس پر مواخذہ کیوں کر ہو سکتا ہے۔ہاں میں یہ کہتا ہوں کہ چونکہ میں مسیح موعود ہوں اور خدا نے عام طور پر میرے لئے آسمان سے نشان ظاہر کئے ہیں۔پس جس شخص پر میرے مسیح موعود ہونے کے بارہ میں خدا کے نزدیک اتمام حجت ہو چکا ہے اور میرے دعوے پر وہ اطلاع پا چکا ہے وہ قابل مواخذہ ہو 266" گا۔اسی طرح آپ لکھتے ہیں کہ :- ماسوا اس کے اگر فرض کے طور پر کوئی ایسا شخص دُنیا میں ہو کہ وہ باوجود پوری نیک نیتی اور ایسی پوری پوری کوشش کے کہ جیسا کہ وہ دُنیا کے حصول کے لئے کرتا ہے اسلام کی سچائی تک پہنچ نہیں سکا تو اُس کا حساب خدا کے پاس ہے “۔267 موجودہ امام جماعت احمدیہ موجودہ امام جماعت احمدیہ نے بھی اس کے متعلق وضاحت کی ہے۔آپ تحریر فرماتے کی طرف سے وضاحت ہیں:- باقی ہم میں اور اُن میں تو کفر کی تعریف میں اختلاف بھی بہت سا پایا جاتا ہے۔یہ لوگ گفر کے معنے یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کا انکار حالا نکہ ہم یہ معنے نہیں کرتے اور نہ گفر کی یہ تعریف کرتے ہیں۔ہم تو