انوارالعلوم (جلد 23) — Page 345
انوار العلوم جلد 23 345 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اسی طرح فرماتا ہے يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوْا لِلَّذِينَ هَادُوْا - 244 بنی اسرائیل میں بعض نبی ایسے تھے جو شریعت نہیں لاتے تھے ، وہ مسلمان ہوتے تھے اور یہودیوں کو تو رات کے احکام پر چلاتے تھے۔اس جگہ پر بھی نبیوں کا نام مسلم رکھا گیا ہے۔پس معلوم ہوا کہ قرآن کے نزدیک اسلام کے دو درجے ہیں۔ایک ایمان سے کم، ایک ایمان سے زیادہ۔جو ایمان سے زیادہ اسلام ہے اُس سے خارج ہو کر بھی انسان ایمان کے درجے پر ہو سکتا ہے اور مسلم کہلانے کا حق رکھتا ہے اور اسلام کے جامع مانع دائرہ سے باہر نہیں لیکن اس کے بر خلاف جو ایمان سے کم اسلام ہے اُس اسلام میں داخل ہو کر بھی انسان ایمان سے محروم ہو سکتا ہے۔جیسا کہ قرآن کریم کی مذکورہ بالا آیت میں صراحتاً ذکر ہے۔علمائے اسلام نے بھی یہی تشریح کی ہے۔چنانچہ علامہ اصفہانی لکھتے ہیں:- الْإِسْلَامُ فِي الشَّرْعِ عَلَى ضَرْبَيْنِ أَحَدُ هُمَا دُوْنَ الْإِ يْمَانِ وَ هُوَ الْإِعْتِرَافُ بِاللَّسَانِ وَ بِهِ يُحْقَنُ الدَّمُ حَصَلَ مَعَهُ الاعْتِقَادُ أَوَلَمْ يَحْصُلُ وَإِيَّاهُ قُصِدَ بِقولِهِ قَالَتِ الأَعْرَابُ أَمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا۔وَالثَّانِي فَوْقَ الْإِيْمَانِ وَهُوَ أَنْ يكُونَ مَعَ الْاِعْتِرَافِ اِعْتِقَادُ بِالْقَلْبِ وَ وَفَاء بِالْفِعْلِ وَ اسْتِسْلَامُ لِلَّهِ فِي جَمِيعِ مَا قَضَى وَ قَدَّرَ كَمَا ذُكِرَ عَنْ إِبْرَاهِيْمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي قَوْلِهِ اِذْ قَالَ لَهُ رَبُّكَ أَسْلِمُ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِيْنَ وَ قَوْلُهُ تَعَالَى إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ للهِ الْإِسْلَامُ وَ قَوْلُهُ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا أَى إِجْعَلْنِي مِمَّنِ اسْتَسْلَمَ لِرِضَاكَ 245 یعنی اسلام دین محمدی کی رُو سے دو طرح کا ہوتا ہے۔ایک اسلام ایمان سے نیچے ہوتا ہے اور وہ زبان سے اعتراف کرنا اور کلمہ پڑھنا۔اور جان کی حفاظت اتنے سے ہی ہوتی ہے۔اس کے ساتھ اعتقاد کی صحت کا کوئی سوال نہیں ہوتا۔قرآن کریم کی یہ جو آیت ہے کہ قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَا قُلْ لَمْ تُؤْمِنَوْا وَلَكِنْ قُوْلُوْا أَسْلَمْنَا اس سے اسی طرح