انوارالعلوم (جلد 23) — Page 289
انوار العلوم جلد 23 289 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اور فلسفی مذہبوں میں مَا بِهِ الْاِمتیاز ہے۔اسلام کا فخر تو اس بات میں ہے کہ اُس نے جیسا کہ ہم اُوپر ثابت کر چکے ہیں مذہب کی بنیاد محبت پر قائم کر دی ہے اور ذہنی غلامی سے انسان کو بچا لیا ہے اور محبت کی سب سے بڑی علامت یہی ہوتی ہے کہ محبوب کا قرب نصیب ہو اور اُس کے منہ سے ہمیں یہ معلوم ہو جاوے کہ وہ ہمارے کاموں سے راضی ہے اور ہم سے خوش ہے اور مصیبت کے وقت ہم سے ہمدردی کرے اور ہمارا ساتھ دے۔لیکن عجیب بات ہے کہ اسلام تو کہتا ہے کہ پہلے زمانے میں چند نبیوں کو خدا کا محبوب قرار دیا جاتا تھا مگر اُمت محمدیہ میں محبت کا دروازہ اتنا وسیع کر دیا گیا ہے اور شریعتِ اسلام نے احکام اسلامی کو ایسے رنگ میں بیان کیا ہے کہ انسان کے دل جبر و غلامی کا احساس مٹ جاتا ہے اور وہ اسلامی تعلیم پر اپنا ذوق اور شوق اور علم اور معرفت کے ساتھ نہ صرف عمل کرتا ہے بلکہ عمل کرنا چاہتا ہے اور عمل کرنا ضروری سمجھتا ہے اور اس کے نیک نتائج کو دیکھ کر اس کا دل خدا کی محبت سے بھر جاتا ہے کہ اُس نے مجھے ایسا رستہ دکھایا کہ جو میری کامیابی کا ہے اور مجھے تباہی سے بچانے والا ہے۔لیکن آجکل کے علماء اسلام کی خدمت اس بات کا نام رکھتے ہیں کہ وہ اس آئیڈیالوجی (IDEOLOGY) کو مٹادیں اور خدا اور بندے کے درمیان ایک دیوار حائل کر دیں تا ایک مسلمان اور ایک فلسفی کے درمیان کوئی فرق باقی نہ رہے۔قرآن تو سامری کے ثبت متعلق یہ فرماتا ہے کہ أَفَلَا يَرَوْنَ اَلا يَرْجِعُ إِلَيْهِم قولا 122 کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ وہ ثبت اُن کی باتوں کا جواب نہیں دیتا۔لیکن رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گڈی پر بیٹھنے کے دعویدار اور اسلام کی خدمت کے مدعی علماء آج یہ کہتے ہیں کہ جو اسلام کے خدا کو سامری کے بت جیسا نہیں سمجھتا وہ اسلام سے خارج ہے۔حالانکہ خود اُن کے علماء مذکورہ بالا آیت أَفَلا يَرَوْنَ اَلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًا سے یہ استدلال کر چکے ہیں کہ “لَمْ يَخْطُرُ بِبَالِهِمْ أَنَّ مَنْ لَا يَتَكَلَّمْ وَلَا يَضُرُّ وَ لَا يَنْفَعُ لَا يَكُونُ الْهَا“۔اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ کیا اُن کے دلوں میں یہ خیال نہیں گزرتا کہ جو وجود کلام نہیں کرتا اور نہ کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع دے سکتا ہے وہ خدانہیں ہو سکتا۔123