انوارالعلوم (جلد 23) — Page 245
انوار العلوم جلد 23 245 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ ہم پر ظاہر کر دی جاتی ہیں اور ہم ان سے متفق ہو جاتے ہیں تو ہمارا دل یہ محسوس کرتا ہے کہ اگر یہ علم ہمیں حاصل ہوتا اور ہم پر قانون بنانے کی ذمہ داری ڈال دی جاتی تو ہم بھی یہی قانون بناتے۔پس گو قانون بنا بنایا ہمیں ملا ہے لیکن جو علم اس کے ساتھ دیا گیا ہے اُس کے ساتھ ہم محسوس کرتے ہیں کہ اگر ہم قانون بناتے تو یہی قانون بناتے اور یہی ہمارے لئے بہتر ہوتا۔جب تک شریعت اس مقام پر نہ پہنچے اس وقت تک وہ عالمگیر شریعت نہیں بن سکتی اور نہ ہیشگی کی شریعت بن سکتی ہے۔پس ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ گزشتہ زمانے میں بنی نوع انسان کے متفرق ہو جانے کے بعد پھر آدم کی طرح تمام دنیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر کیوں جمع کر دی گئی ہے اور کیوں اس سے پہلے جمع نہیں کی گئی۔اُوپر کی تمہید سے ظاہر ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے جو کمالِ انسانی ظاہر کیا گیا ہے وہ یہی ہے کہ ایک ایسی شریعت آپ کو دی گئی جو تمام اصولی و ضروری احکام پر مشتمل تھی جو تمام بنی نوع انسان کی ضرورتیں پوری کرنے والی تھی اور جس کے ساتھ اُن احکام کا پس منظر بھی دے دیا گیا جو اُن احکام کے دینے کی وجہ تھا تا بنی نوع انسان بشاشت کے ساتھ اُن احکام پر عمل کر سکے۔حضرت مسیح ناصری بھی اپنے اس قول میں اسی کی طرف اشارہ فرماتے ہیں کہ :۔” مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہے مگر اب تم اُن کی برداشت نہیں کر سکتے۔لیکن جب وہ یعنی سچائی کا رُوح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا“۔40 قرآن مجید ہر حکم کی حکمت بیان کرتا ہے قرآن کریم کا یہ دعویٰ کہ وہ نہ صرف ضروری تعلیم بیان کرتا ہے بلکہ تعلیم کی غرض و غایت اور موجبات اور اس کا پس منظر بھی بیان کرتا ہے۔اس نے مذہب کی تاریخ بالکل بدل دی۔قرآن کریم سے پہلے شرائع تو آئی تھیں مگر