انوارالعلوم (جلد 23) — Page 244
انوار العلوم جلد 23 244 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تو انسانی حالات اور زمانی کیفیات ایسی تھیں کہ مختلف علاقوں کے لئے مختلف قسم کے اصولی احکام دیئے جائیں لیکن رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت دُنیا اس حد تک ترقی کر چکی تھی اور آپس میں میل جول کے ذرائع اس حد تک پیدا ہو گئے تھے کہ اب تمام دنیا کے لئے ایک ہی قسم کے اصولی احکام دینا ضروری ہو گیا تھا۔اسی طرح آپ کے زمانہ سے پہلے انسانی دماغ نے اس قدر نشو و نما نہیں پائی تھی کہ وہ شریعت کی تمام باریکیوں سے واقفیت کا متحمل ہو سکے مگر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و کے زمانہ میں انسانی دماغ اتنا کامل ہو چکا تھا کہ شریعت کے رازوں اور حکمتوں سے واقفیت حاصل کر سکے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ کتاب دی جو شریعت کے تمام ضروری احکام پر مشتمل تھی اور وہ ایسے الفاظ میں تھی جو شریعت کے رازوں اور حکمتوں کو تفصیل کے ساتھ واضح کر دینے پر كَمَا حَقُه حاوی تھی۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلِأَتِمَ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ - كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِنْكُم يَتْلُوا عَلَيْكُم أيتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ۔39 فرماتا ہے (تم میرا خوف کرو) تا میں تم پر اپنی نعمت کامل کر دوں اور تم ہدایت پا جاؤ۔اس لئے کہ میں نے تمہاری طرف وہ رسول بھیجا ہے جو تم میں سے ہی ہے، جو تمہیں میرے نشان پڑھ کر سناتا ہے اور تم کو پاک کرتا ہے اور تمہیں شریعت بھی سکھاتا ہے اور اُس کی حکمتیں بھی تم پر واضح کرتا ہے۔§ اس آیت میں اوپر والی آیت کی تشریح کر دی ہے کہ اتمام نعمت کے لئے یہ ضروری ہے کہ شریعت کی حکمتیں بیان کی جائیں کیونکہ شریعت کا کامل ہونا انسانی دماغ کے تنور کے لئے ضروری نہیں۔شریعت صرف ہمارے خیال، ہمارے افکار اور ہمارے اعمال کو درست کرتی ہے مگر ہمارے ذہن کو بلندی تبھی حاصل ہوتی ہے جب کہ اُس شریعت کے بیان کرنے کا پس منظر بھی ہمارے سامنے کھولا جائے اور اُس کی حکمتیں بھی ہم پر ظاہر کی جائیں۔تب ہمیں صرف ایک قانون ہی نہیں ملتا بلکہ ہم ایک رنگ میں اُس قانون کے بنانے والے ہو جاتے ہیں کیونکہ جب اُس قانون کے بنانے کی حکمتیں