انوارالعلوم (جلد 23) — Page 240
انوار العلوم جلد 23 240 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ مبعوث فرمایا جن پر قرآن کریم نازل ہوا جس نے پہلی کتابوں کی تصدیق کر دی۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ حضرت آدم سے لے کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک انبیاء کا سلسلہ متواتر جاری رہا اور بغیر کسی معتد بہ وقفہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے لوگ آتے رہے۔بے شک قرآن کریم میں صرف ان نبیوں کے نام لئے گئے ہیں جن سے عرب واقف تھے لیکن دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرُ - 25 اسی طرح فرماتا ہے وَلِكُلِ قَوْمٍ هَادٍ۔26 یعنی دُنیا کی ہر قوم میں خدا تعالیٰ کے رسول اور ہادی گزرے ہیں۔پس بنی نوع انسان کا اس کے ساتھ تعلق بذریعہ الہام آدم سے لے کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود تک برابر چلا آیا ہے۔خدا تعالیٰ کے وجود اور قیامِ نبوت کے متعلق اس اسلامی نظریہ اسلامی نظریہ کے مقابل دوسرے مذاہب کا نظریہ مذاہب اور دوسری کے خلاف دوسرے اقوام میں خدا تعالیٰ کا وجود اور نبوت کا قیام صرف اپنی اپنی قوم کے دائرہ میں محصور کیا گیا ہے۔ہندو مذہب غیر اقوام میں مرسلانِ الہی کے متعلق بالکل خاموش ہے بلکہ اپنے نسلی نظریہ کے لحاظ سے اُس کے خلاف ہے۔مشرقی ایشیائی اقوام بھی اس نظریہ سے بالکل کوری نظر آتی ہیں اور یہی حال بدھوں کا ہے۔ایرانی، بابلی اور یونانی بھی مذہبی نظر سے اس بارہ میں بالکل خاموش ہیں بلکہ جو شہادت ملتی ہے وہ اس کے خلاف ملتی ہے۔بنی اسرائیل بھی خدا کو ایک قومی خدا قرار دیتے ہیں اور نبوت کو ابراہیم کی نسل کا ورثہ سمجھتے ہیں۔قرآن کریم میں بھی آتا ہے کہ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ - 27 یعنی ہم نے نوح اور ابراہیم کی ذریت میں نبوت رکھ دی ہے۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ نوح اور ابراہیم کی ذریت میں سے نبی آتے رہے اور اُن کا سلسلہ بند نہیں ہوا۔یہ معنے نہیں کہ دوسری قوموں میں نبی نہیں آئے کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنْ مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرُ - وَلِكُلِ قَوْمٍ هَادٍ۔اور اللہ تعالیٰ اس کو کسی زمانے سے مخصوص نہیں کرتا