انوارالعلوم (جلد 23) — Page 239
انوار العلوم جلد 23 239 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ انسانوں کی حالتوں میں جب کبھی خرابی پید اہوتی اور اُن کی حالت اصلاح طلب ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کچھ فرشتوں کو اصلاح کے لئے مبعوث کرتا ہے جو آگے اپنے جیسے وجودوں پر خدا تعالیٰ کی مرضی کو ظاہر کرتے ہیں اور وہ بنی نوع انسان کی اصلاح کے کام میں لگ جاتے ہیں۔اسی طرح فرماتا ہے فَأَمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِنَى هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ - 22 یعنی اے بنی آدم ! جب تمہاری طرف ہدایت آئے تو جو میری ہدایت پر عمل کرے گا وہ خوف اور غم سے محفوظ رہے گا۔اس جگہ ہدایت کا ذکر ہے رسالت کا نہیں جس میں رسالت اور عام الہام دونوں شامل ہیں۔اور حضرت آدم کے زمانے میں ہی قیامت تک کے لئے انزال وحی کا جو کبھی رسالت کی شکل میں ہو گی، کبھی بغیر رسالت کے ہو گی وعدہ کیا گیا ہے۔چنانچہ سورہ مومنون میں اس بات کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اُس کو اپنی ہدایت کا وارث بنایا اور نوح اور اس کے بعد دوسرے رسول پے در پے بھیجے۔یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ آگیا۔اور سورۂ حدید میں فرماتا ہے وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَ إِبْرَاهِيمَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَبَ فَمِنْهُمْ مُهْتَدِ وَ كَثِيرٌ مِنْهُم فسقُونَ۔23 اور ہم نے نوح اور ابراہیم کو رسول بنا کر بھیجا اور اُن کی اولاد میں بھی نبوت اور کتاب کا سلسلہ جاری کیا۔اُن میں سے کچھ تو ہدایت یافتہ ہو گئے اور اکثر اُن میں سے نا فرمان ہو گئے۔اس کے بعد موسی کے زمانے کا ذکر یوں فرماتا ہے وَلَقَد اتينا مُوسَى الْكِتَبَ وَقَفَيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَتِ وَأَيَّدُ نَهُ بِرُوحِ الْقُدْسِ ، اَفَكُلَّمَا جَاءَكُمْ رَسُولُ بِمَا لَا تَهْوَى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًا كَذَبْتُمْ وَ فَرِيقًا تَقْتُلُونَ - وَقَالُوا قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ لَعَنَهُمُ اللهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيلًا مَا يُؤْمِنُونَ وَ لَمَّا عَهُم كِتَبٌ مِّنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِّقُ لِمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُم مَّا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ فَلَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَفِرِينَ 24 یعنی موسیٰ کو بھی کتاب ملی اور اُن کے بعد بھی خدا تعالیٰ نے پے در پے رسول بھیجے یہاں تک کہ عیسی بن مریم دُنیا میں ظاہر ہوئے اور اُن کے بعد خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لا