انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 204

انوار العلوم جلد 23 204 تعلق باللہ تعلق بھی اللہ تعالیٰ کا انسان سے ماں باپ سے زیادہ ہے کیونکہ ان کا اپنائیت کا احساس ابتدا کے لحاظ سے بھی محدود ہے اور انتہاء کے لحاظ سے بھی محدود ہے۔ماں باپ کی اپنائیت کا احساس اُس وقت ہوتا ہے جب بچہ رحم مادر میں آتا ہے اور جب وہ مر جاتا ہے تو یہ احساس ختم ہو جاتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ احساس یا تعلق دونوں لحاظ سے غیر محدود ہے۔میں خواہ آج پیدا ہوا یا پچھلی صدی میں پیدا ہوا۔خدا تعالیٰ ازل سے یہ جانتا تھا کہ میں اُس کا ہوں اور ازل سے یہ جانتا ہے کہ میں مرنے کے بعد بھی اُسی کا ہوں پس ماں باپ کی اپنائیت محدود دائرہ کے لئے ہے اور خدا تعالیٰ کی اپنائیت غیر محدود دائرہ کے لئے ہے۔(د) چوتھی وجہ ماں باپ کی محبت کی بقائے ذات کا احساس ہے چونکہ انہوں نے فنا ہونا ہے اس لئے وہ ایک ایسے وجود کو چاہتے ہیں جن میں اُن کا وجود زندہ رہے۔خداتعالی فنا سے پاک ہے مگر اس کا تعلق اس جہت سے بھی انسان سے ہے۔ماں باپ کا بقائے ذات کا تعلق زمانہ کے لحاظ سے ہوتا ہے۔یعنی ماں باپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ جب ہم مر جائیں گے تو اُس زمانہ میں یہ بچہ ہمارا قائم مقام ہو گا لیکن خدا تعالیٰ کا بقائے ذات کا تعلق مقام کے لحاظ سے ہے یعنی چونکہ وہ وراء الوراء ہے وہ انسان کے ذریعہ سے اپنے وجود کو دنیا میں زندہ رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں صرف اپنے بندے کے ذریعہ دنیا میں ظاہر ہو سکتا ہوں اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام دنیا میں نہ آئے ہوتے تو اُن کی قوم خدا تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتی تھی۔اگر حضرت عیسی علیہ السلام دنیا میں نہ آئے ہوتے تو اُن کی قوم خدا تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتی تھی۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں نہ آئے ہوتے تو اُن کی قوم خدا تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتی تھی۔اسی طرح بڑے بڑے اولیاء جو امت محمدیہ میں آئے اگر وہ نہ آئے ہوتے تو اُس زمانہ کے لوگ خد اتعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتے تھے۔اسی طرح اس زمانہ میں اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نہ آتے تو دنیا خدا تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتی تھی۔پس ماں باپ کو مد نظر رکھتے ہوئے بقائے ذات کا تعلق وقت کے لحاظ سے ہے اور خدا تعالیٰ کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کا بقائے ذات کا مقام کے لحاظ سے ہے۔خدا اس مجلس میں اِن آنکھوں سے نظر نہیں آرہا لیکن اس کے