انوارالعلوم (جلد 23) — Page 199
انوار العلوم جلد 23 199 تعلق باللہ اور ترقی دے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے بہر حال اِس سلسلہ کو جاری رکھنا تھا اس لئے اُس نے ماں باپ کے دل میں اپنے بچوں کی محبت پیدا کر دی۔پس ماں باپ کی محبت کی ایک بڑی وجہ خالقیت ہے اور جب ہمیں یہ معلوم ہو گیا تو اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ جب خدا کہتا ہے کہ میں سب سے زیادہ محبت رکھتا ہوں تو ہمیں یہ بات مان چاہیے۔جب انسان خالقیت کے ایک ادنیٰ پر تو کی وجہ سے اپنے بچوں سے اتنی محبت رکھتا ہے تو اصل خالق کو اپنی مخلوق سے جس قدر محبت ہو سکتی ہے اُس کا تو اندازہ لگانا بھی انسانی طاقت اور قوت سے باہر ہے۔(2) ماں باپ کی محبت کی دوسری وجہ وحدت جسمانی ہے۔انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے یہ مادہ رکھا ہے کہ وہ بغیر سوچے سمجھے اپنے جسم کو بچانے کی کوشش کرتا ہے تم اچانک اپنے کسی دوست کی آنکھ کی طرف زور سے انگلی لے جاؤ تو وہ فوراً اپنی آنکھ جھپک لے گا کیونکہ یہ فطرتی چیز ہے اور اس میں سوچنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔پچھلے دنوں میری ایک نواسی جو ابھی چھوٹی بچی ہی ہے اور اُس کا والد سید ہے میرے پاس آئی اور میں نے مذاق کے طور پر اپنی سوٹی اُس کی طرف اس انداز میں کی کہ گویا ابھی میں اُسے مارنے لگا ہوں۔میری سوٹی کے آگے نوکدار پھل بھی لگا ہوا ہے چونکہ میں نے اچانک ایسا کیا تھا اس لئے اُس نے ڈر کر چیخ ماری۔تھوڑی دیر کے بعد جب وہ ٹھیک ہو گئی تو میں نے اُسے ہنس کر کہا سید بزدل ہوتے ہیں، مغل بہادر ہوتے ہیں۔کہنے لگی نہیں نہیں سید بہادر ہوتے ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد جب اُس کے ذہن سے یہ بات اتر گئی تو میں نے پھر اُسے ڈرانے کے لئے اسی طرح کیا اور وہ پھر ڈر کر پیچھے ہٹ گئی۔میں نے کہا دیکھا سید ڈر جاتے ہیں۔خیر وہ چلی گئی اور چند دن مشق کرتی رہی۔اس کے بعد وہ پھر میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اب دیکھیں میں ڈرتی ہوں یا نہیں ؟ چنانچہ میں نے اُسے ڈرایا تو وہ نہیں ڈری لیکن دو چار دن کے بعد جب وہ پھر میرے پاس آئی تو غیر متوقع طور پر میں نے پھر اُسے ڈرا دیا اور میں نے دیکھا کہ اس دفعہ بھی وہ ڈر گئی کیونکہ وہ اس کے لئے تیار نہیں تھی تو فطرت کے اندر خدا تعالیٰ نے اپنے جسم کی حفاظت کا مادہ رکھا ہے چونکہ بچہ ماں باپ