انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 195

انوار العلوم جلد 23 195 تعلق باللہ کہ اُس بغض کا بدلہ لینے کے پیچھے کوئی ڈر اور خوف ہے جو اُسے ترک انصاف سے روکتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے بدلہ لیا تو میرے لئے اچھا نہیں ہو گا۔یہ بڑی محبت یابڑا خوف اللہ تعالیٰ کا ہی ہو سکتا ہے جو خواہ معین طور پر اللہ کے نام سے ہو یا غیر معین کسی بالا اور اعلیٰ طاقت کی وجہ سے ہو۔بہر حال اُس کی فطرت میں محبت یا خوف پایا جاتا ہے۔جس کی وجہ سے وہ انصاف سے کام لیتا ہے اور یہ محبت یا خوف اللہ تعالیٰ کا ہی ہو سکتا ہے۔اور جس کے دل میں یہ بات نہیں لازماً اُس کا یہ فعل اس لئے ہو گا کہ گویا وہ کسی بڑی طاقت کو مانتا ہے یا اس کے قریب ہونا چاہتا ہے اور جب ایسا مقام کسی کو حاصل ہو جائے تو لازماًوہ خدا تعالیٰ سے محبت کرنے لگ جائے گا اور جب وہ خد اتعالیٰ سے محبت کرے گا تو خدا بھی اُس سے محبت کرنا شروع کر دے گا۔چنانچہ اس بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِن اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ 2 اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔(8) ایک طریقہ محبت الہی کے حصول کا یہ ہوتا ہے کہ انسان ہر امر میں خدا تعالیٰ کو ڈھال بنانے کی کوشش کرے۔یعنی بدی کو خدا کے لئے چھوڑے بدی کو بدی کے لئے نہ چھوڑے۔یہی وہ چیز ہے جسے تقویٰ کہتے ہیں۔جب انسان کو کسی ہستی کی خاطر کام کرنے کی عادت ہو جاتی ہے تو آہستہ آہستہ اس سے محبت ہو جاتی ہے۔چنانچہ بادشاہوں، نوابوں اور رؤساء سے پرانے خاندانی خدام اور رعایا کی محبت اِسی لئے ہوتی ہے کہ اُنہیں اُن کی خاطر کام کرنے کی عادت ہوتی ہے اور اس عادت کی وجہ سے اُن کی محبت ترقی کرتی رہتی ہے۔اسی طرح انسان کو چاہیے کہ وہ جو کام بھی کرے خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے کرے۔مثلاً اگر وہ صدقہ دیتا ہے تو کہے کہ میں یہ صدقہ اس لئے نہیں دیتا کہ میری نیک نامی اور شہرت ہو بلکہ اس لئے دیتا ہوں کہ خدا نے صدقہ دینے کا حکم دیا ہے یا فلاں پر میں ظلم نہیں کروں گا کیونکہ میں خدا سے ڈر تاہوں۔جب اس طرح اُسے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کا نام لینے کی عادت پڑ جائے گی تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اُس کی وابستگی ہو جائے گی۔اسی کی طرف اللہ تعالیٰ اِس آیت میں اشارہ فرماتا ہے کہ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ 23 جو بُرے کاموں سے میرے لئے بچتے ہیں اور جو نیکی کا کام میرے لئے کرتے ہیں اُن سے میں محبت 93