انوارالعلوم (جلد 23) — Page 145
انوار العلوم جلد 23 145 تعلق باللہ ہماری نماز بھی قبول کرتا ہے یا نہیں، ہمارے روزے بھی قبول کرتا ہے یا نہیں، ہماری زکوۃ اور حج بھی قبول کرتا ہے یا نہیں۔اس پر ایک دوسرا شخص بولا کہ اللہ تعالیٰ کی بڑی شان ہے میں تو کئی دفعہ سوچتا ہوں کہ میں مومن بھی ہوں یا نہیں۔حافظ محمد صاحب ایک کونہ میں بیٹھے ہوئے تھے وہ یہ باتیں سنتے ہی اُس شخص سے مخاطب ہوئے اور کہنے لگے تم اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو ؟ کیا یہ سمجھتے ہو کہ تم مومن ہو یا نہیں ؟ اس نے کہا میں تو یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ میں مومن ہوں یا نہیں۔حافظ محمد صاحب کہنے لگے اچھا اگر یہ بات ہے تو آج سے میں نے تمہارے پیچھے نماز نہیں پڑھنی۔باقیوں نے کہا حافظ صاحب! اس کی بات ٹھیک ہے ایمان کا مقام تو بہت ہی بلند ہے۔کہنے لگے اچھا پھر تم سب کے پیچھے نماز بند۔جب تم اپنے آپ کو مومن ہی نہیں سمجھتے تو تمہارے پیچھے نماز کس طرح ہو سکتی ہے۔غرض دوست پشاور پہنچے اور حافظ صاحب نے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنی چھوڑ دی۔جب پوچھا گیا تو اُنہوں نے کہا کہ تم تو اپنے آپ کو مومن ہی نہیں سمجھتے میں تمہارے پیچھے نماز کس طرح پڑھوں۔آخر جب فساد بڑھا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔حافظ صاحب ٹھیک کہتے ہیں مگر یہ اُن کی غلطی تھی کہ اُنہوں نے اُن لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنی ہی چھوڑ دی کیونکہ انہوں نے کفر نہیں کیا تھا لیکن بات ٹھیک ہے۔ہماری جماعت کے دوستوں کا فرض تھا کہ وہ اپنے آپ پر حسن ظنی کرتے۔جہاں تک کوشش کا سوال ہے انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنی کوشش جاری رکھے اور نیکیوں میں بڑھنے کی کوشش کرے۔مگر یہ کہ مومن ہونے سے ہی انکار کر دے یہ غلط طریق ہے۔پس مسئلہ اُن کا ٹھیک ہے لیکن فعل اُن کا غلط ہے۔انہیں اپنے دوستوں کے پیچھے نماز نہیں چھوڑنی چاہیے تھی۔صوفیاء نے بھی لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص دیدہ و دانستہ جانتے بوجھتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ میں اپنے نفس کو ٹولتا ہوں تو مجھے نظر نہیں آتا کہ اُس میں ایمان پایا جاتا ہے تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔یہی حقیقت اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ مومن کہتے ہیں إِنَّا إِلَى اللهِ دُغِبُونَ۔ہم خدا تعالیٰ سے محبت کرنے والے ہیں۔پس مومنوں کو سب