انوارالعلوم (جلد 23) — Page 65
انوار العلوم جلد 23 65 نئی قیود اور اصلاحات کو خوشی سے برداشت کرنا چاہئے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نَصَلَّىٰ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ نئی قیود اور اصلاحات کو خوشی سے برداشت کرنا چاہئے افتتاحی تقریر جلسه سالانه فرموده 26 دسمبر 1952ء بمقام ربوہ) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- پہلے میں اس جلسہ کے افتتاح کے لئے دُعا کر دیتا ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس جلسہ کو ان اغراض کے مطابق بنائے جن اغراض کے لئے اس نے اس جلسہ کی بنیاد رکھی تھی اور تاکہ اللہ تعالیٰ اس جلسہ میں شامل ہونے والوں پر اپنے فضل اور رحمت سے ان دروازوں کو کھولے جن دروازوں کو کھولنا اِس جلسہ کے قیام کے ساتھ اس نے مقدر کیا تھا اور جس طرح اس نے اُن کو اس دُنیا کی باتیں سننے کے لئے کان عطا فرمائے ہیں اسی طرح وہ ان کو دین کی باتیں سُننے کے لئے روحانی اور دل کے کان بھی عطا فرمائے اور قوت عملیہ جس کے بغیر ایمان کسی کام کا نہیں وہ ان کو عطا ہو اور ان کی زندگیاں خد اتعالیٰ کے منشاء اور اسلام کی تعلیم کے مطابق ہوں۔بعض جماعتوں کی طرف سے باہر سے تاریں آئی ہیں جن میں اُنہوں نے درخواست کی ہے کہ جلسہ سالانہ کی دُعا کے موقع پر ان کے لئے بھی دُعا کی جائے۔چنانچہ بورنیو کے شہر جیلیٹن سے وہاں کی جماعت کی تار آئی ہے کہ یہاں نئی جماعت بن رہی ہے۔دوست دُعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری امداد فرمائے۔اسی طرح شیخ ناصر احمد صاحب کی سوئٹزر لینڈ سے تار آئی ہے، سید عبد الرحمن صاحب کی امریکہ سے تار آئی ہے، چوہدری عبد الرحمن صاحب کی لنڈن سے تار آئی ہے، حافظ بشیر الدین صاحب کی ماریشس سے تار آئی ہے، یہاں کی مقامی جماعتوں کی طرف سے بھی مختلف جگہوں سے ،