انوارالعلوم (جلد 23) — Page 560
انوار العلوم جلد 23 560 مسئلہ خلافت یہ ہیں کہ ایک آرگنائزیشن ہو۔اس کے بغیر مساوات قائم نہیں ہو سکتی۔اسلام آیا ہی اس لئے تھا کہ وہ ایک آرگنائزیشن اور ڈسپلن قائم کرے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی تھی کہ یہ ڈسپلن ظالمانہ نہ ہو اور افراد اپنے نفسوں کو دبا کر رکھیں تاکہ قوم جیتے۔لیکن چند ہی سالوں میں مسلمانوں میں یہ سوال پیدا ہو نا شروع ہو گیا کہ خزانے ہمارے ہیں اور اگر حکام نے ان کے راستہ میں کوئی روک ڈالی تو انہوں نے انہیں قتل کرنا شروع کر دیا۔یہ وہ روح تھی جس نے مسلمانوں کو خراب کیا۔انہیں یہ سمجھنا چاہئے تھا کہ یہ حکومت الہیہ ہے اور اسے خدا تعالیٰ نے قائم کیا ہے۔اس لئے اسے خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہی رہنے دیا جائے تو بہتر ہے۔اللہ تعالیٰ سورہ نور میں فرماتا ہے کہ خلیفے ہم بنائیں گے لیکن مسلمانوں نے یہ سمجھ لیا کہ خلیفے ہم نے بنائے ہیں۔اور جب اُنہوں نے یہ سمجھا کہ خلیفے ہم نے بنائے ہیں تو خدا تعالیٰ نے کہا اچھا! اگر خلیفے تم نے بنائے ہیں تو اب تم ہی بناؤ۔چنانچہ ایک وقت تک تو وہ پہلوں کا مارا ہوا شکار یعنی حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان اور حضرت علیؓ کا مارا ہو ا شکار کھاتے رہے لیکن مرا ہوا شکار ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔زنده بکرا، زنده بکری، زندہ مرغا اور زندہ مرغیاں تو ہمیں ہمیشہ گوشت اور انڈے کھلائیں گی لیکن ذبح کی ہوئی بکری یا مرغی زیادہ دیر تک نہیں جاسکتی۔کچھ وقت کے بعد وہ خراب ہو جائے گی۔حضرت ابو بکر، عمر، عثمان ، علی کے زمانہ میں مسلمان تازہ گوشت کھاتے تھے لیکن بے وقوفی سے انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ چیز ہماری ہے اس طرح اُنہوں نے اپنی زندگی کی روح کو ختم کر دیا اور مرغیاں اور بکریاں مردہ ہو گئیں۔آخر تم ایک ذبح کی ہوئی بکری کو کتنے دن کھالو گے۔ایک بکری میں دس بارہ سیر یا پچیس تیس سیر گوشت ہو گا اور آخر وہ ختم ہو جائے گا۔پس وہ بکریاں مردہ ہو گئیں اور مسلمانوں نے کھا پی کر انہیں ختم کر دیا۔پھر وہی حال ہوا کہ "ہتھ پرانے کھونڑے بسنتے ہوری آئے" وہ ہر جگہ ذلیل ہونے شروع ہوئے۔انہیں ماریں پڑیں اور خدا تعالیٰ کا غضب ان پر نازل ہوا۔عیسائیوں نے تو اپنی مُردہ خلافت کو آج تک سنبھالا ہوا ہے لیکن ان بد بختوں نے زندہ خلافت کو اپنے ہاتھوں گاڑ دیا اور یہ محض عارضی خواہشات ، دنیوی ترقیات کی تمنا اور وقتی جوشوں کا