انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 443

انوار العلوم جلد 23 443 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اور اُس کے ایک بے جاو ناروا خیال کی لغویت ظاہر کرنے کے لئے نہ کہ سارے مسلمانوں کے متعلق۔”آفاق“ کے ایڈیٹر نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ زمینوں کی ملکیت کے متعلق امام جماعت احمدیہ نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے ان خیالات کے اظہار کا انہیں کوئی حق نہیں کیونکہ وہ تھوڑے ہیں اور ہم زیادہ ہیں۔اس پر انہوں نے مثال دی تھی کہ اگر تھوڑے ہونا کسی شخص کی زبان بندی کر دیئے جانے کے لئے کافی ہے تو پھر ابو جہل کا بھی یہ دعویٰ صحیح ہو گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان بندی ہونی چاہئے کیونکہ وہ تھوڑے ہیں اور ہم زیادہ ہیں۔پس وہاں یہ بتانا مقصود تھا کہ تمہارا دعویٰ غلط ہے۔یہ بتانا مقصود نہیں تھا کہ تم ابو جہل ہو اور باوجود اس کے آخر میں آپ نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ تم جو کچھ چاہو کرو ہم تو تمہارے ساتھ محبت اور پیار ہی کا سلوک کریں گے۔412 اور اس اعتراض کا جواب خود بائی سلسلہ احمدیہ بھی اپنی کتابوں میں دے چکے ہیں۔چنانچہ آپ نے فرمایا ہے:- " لَيْسَ كَلَامُنَا هَذَا فِي أَخْيَارِهِمْ بَلْ فِي أَشْرَارِهِمْ 413 - ہم نے جو سخت الفاظ استعمال کئے ہیں وہ غیر احمدیوں میں سے نیک لوگوں کے متعلق نہیں بلکہ وہ ان میں سے شرارتی لوگوں کے متعلق ہیں۔اور آپ نے فرمایا ہے:- غرض ایسے لوگ جو مولوی کہلاتے ہیں انصارِ دین کے دشمن اور یہودیوں کے قدموں پر چل رہے ہیں مگر ہمارا یہ قول کلی ہے۔راستباز علماء اس سے باہر ہیں۔صرف خاص مولویوں کی 414 << نسبت یہ لکھا گیا ہے “۔4 پھر آپ نے فرمایا:- وَنَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنْ هَتَكِ الْعُلَمَاءِ الصَّالِحِيْنَ وَ قَدْح الشُّرَفَاءِ الْمُهَذَّبِينَ سَوَاءً كانُوْا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ اَوِ الْمَسِيحِيَيْنَ