انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 393

انوار العلوم جلد 23 393 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ معاملہ کو صرف اللہ پر چھوڑ دیا جائے۔اپنا دین لوگوں سے نہ منوائیں اور جو بھی ان باتوں پر عمل کرے اُس کے ساتھ لڑائی جائز نہیں۔اسی طرح ایک دوسری سورۃ میں واضح کر دیا گیا ہے کہ اسلامی جہاد صرف اُن لوگوں سے ہوتا ہے جو کہ دین میں دخل دینا چاہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:- لا يَنْكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ - إِنَّمَا يَنْهُكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ قَتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَ اَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَ ظَهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوهُمْ ۚ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَبِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ - 340 اللہ تعالیٰ تمہیں اُن لوگوں سے دوستی اور سلوک اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے لڑائی نہیں کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا کیونکہ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ تمہیں صرف اُن لوگوں سے دوستی کرنے سے روکتا ہے جنہوں نے دین کے متعلق تم سے لڑائی کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا یا تم کو گھروں سے نکالنے والوں کی مدد کی۔ایسے لوگوں سے جو دوستی اور پیار رکھتا ہے وہ ظالم ہے ( اور اپنی قوم کادشمن ہے)۔اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ جہاد صرف دینی جنگ کا نام ہے کیونکہ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ صرف اُن سے دوستی ناجائز ہے جو کہ دین کے معاملہ میں تم سے لڑائی کرتے ہیں۔اگر ہر جنگ جہاد ہے تو پھر اس کے تو یہ معنے ہوں گے کہ جو دینی امور کی وجہ سے مسلمان قوم سے لڑائی کرے اُن کے ساتھ ریشہ دوانیاں اور تعلق جائز ہے۔حالانکہ کوئی عقلمند اس کو تسلیم نہیں کر سکتا۔پس یہ آیت بتاتی ہے کہ قرآن تسلیم کرتا ہے کہ جنگیں دو قسم کی ہوں گی۔ایک وہ جنگ جو کہ دینی جنگ ہو گی اور اسلام کو اسی جنگ سے تعلق ہے وہ جہاد کہلائے گی۔اس کے علاوہ دینی جنگیں بھی انصاف اور عدل کے قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے کی جاسکتی ہیں مگر وہ جہاد فی سبیل اللہ نہیں کہلائیں گی۔خلاصہ یہ کہ قرآنِ کریم کی رُو سے جہاد فی سبیل اللہ وہی ہے جو (1) دین کی خاطر ہو اور