انوارالعلوم (جلد 23) — Page 344
344 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ انوار العلوم جلد 23 امَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ اَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذلِكَ كُنْتُم مِّنْ قَبْلُ فَمَن اللهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا إِنَّ اللهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا - 242 اے مومنو! جب تم سفر کر رہے ہو تو اچھی طرح تحقیقات کر لیا کرو۔اور جو شخص تم کو سلام کہے اُس کو یہ نہ کہا کرو کہ تو مومن نہیں۔اگر تم ایسا کہو گے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم دُنیا کا مال چاہتے ہو۔حالانکہ اللہ کے پاس بہت سے اموال ہیں اور تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے۔پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا اور تم کو ایمان کے درجے عطا کر دئے ہیں۔تم تحقیقات کر لیا کرو۔اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خوب واقف ہے۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ دل تو الگ رہا اگر کوئی شخص اسلام کی تفصیلات سے ناواقف ہو اُس نے اسلام کے صرف ظاہری آداب سیکھے ہوں اور وہ اپنے آپ کو مسلمانوں میں سے ظاہر کرے تب بھی اُس کو یہ کہنا کہ تو مسلمان نہیں، جائز نہیں اور فرماتا ہے کہ جو شخص ایسے شخص کو غیر مسلم کہتا ہے وہ در حقیقت اُس کو لوٹنے کی خاطر وہ راستہ کھولتا ہے۔پھر فرماتا ہے کہ جو لوگ نئے نئے مذہب میں داخل ہوتے ہیں اُن کی معلومات ہمیشہ کم ہوا کرتی ہیں۔پس جن کی معلومات زیادہ ہوں اُن کو اپنی معلومات پر فخر کر کے تھوڑی معلومات والوں پر طعنہ نہیں کرنا چاہئے۔اسلام “ اور ”ایمان“ کے مراتب غرض ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا ایک درجہ ایمان سے چھوٹا ہے اور ایمان کا درجہ اُس سے بڑا ہے لیکن اس کے مقابل پر بعض دوسری آیات بھی ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ ایک قسم کے اسلام کا درجہ ایمان سے بھی بڑا ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق آتا ہے اِذْ قَالَ لَهُ رَبُّكَ أَسْلِمُ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ العلمين _ 243 جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم سے کہا کہ تو اسلام لے آ۔تو اُس نے کہا کہ میں رب العالمین کے لئے اسلام لاتا ہوں۔حالانکہ ابراہیم نبی تھے۔پس یہ اسلام عام اسلام سے بلکہ عام ایمان سے بھی اونچا ہے۔