انوارالعلوم (جلد 23) — Page 216
انوار العلوم جلد 23 216 تعلق باللہ کرتا ہے کہ لیلیٰ سے بڑھ کر کوئی خوبصورت عورت ہو ہی نہیں سکتی۔پس کسی کا اچھا ذکر سن سن کر بھی اُس سے محبت پیدا ہو جاتی ہے۔جب ہماری عقل بتاتی ہے کہ خداسب سے اچھا ہے تو اگر قوم میں اِس امر کو جاری کیا جائے کہ محبت الہی کا ذکر بار بار ہو اور لوگوں کو تحریک کی جائے کہ وہ خود بھی ذکر و فکر کریں اور دوسروں سے بھی کروائیں اور اِس ذکر کو عام کرنے کے لئے وعظ و نصیحت کی مجالس منعقد کی جائیں اور بچوں کے کانوں میں بھی یہ باتیں ڈالی جائیں، بیویوں کے کانوں میں بھی یہ باتیں ڈالی جائیں، ماں باپ کے کانوں میں بھی یہ باتیں ڈالی جائیں تو غیر شعوری طور پر لوگوں کے دلوں میں محبت الہی پیدا ہو جائے گی اور قوم میں ایسے لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں نظر آنے لگیں گے جو خدا کے نام پر سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں حضرت عیسی علیہ السلام کی حیثیت ہی کیا ہے۔مگر اس وجہ سے کہ عیسائی بچپن سے ہی اپنی قوم کے افراد کے دلوں میں یہ نقش کرتے رہتے ہیں کہ عیسی بڑا ہے کوئی عیسائی بھی خواہ وہ دہر یہ ہی کیوں نہ ہو یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عیسی پر فضیلت دی جائے۔میں جب انگلستان گیا تو ایک عیسائی ڈاکٹر جو دہر یہ تھا مجھ سے ملنے کے لئے آیا اور اُس نے مذہبی گفتگو شروع کر دی مگر تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑی بے باقی کے ساتھ حملہ کر دیتا تھا۔تین چار دفعہ تو میں نے بر داشت کیا مگر جب بار بار اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کیا تو میں نے کہا کیا تم جانتے نہیں عیسی میں فلاں فلاں نقص تھے جن کو انجیل سے ثابت کیا جاسکتا ہے۔جب میں نے عیسی کا نام لیا تو وہ آگ بگولہ ہو گیا اور کہنے لگا عیسی کا نام نہ لیں یہاں عیسی کا کیا ذکر ہے میں عیسی کے متعلق کوئی بات سن نہیں سکتا۔میں نے کہا تم اگر عیسی کے متعلق کوئی بات نہیں سن سکتے تو میں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوئی بات نہیں سن سکتا۔وہ دہر یہ تھا مگر اس وجہ سے کہ بچپن سے اُس کے کانوں میں یہ بات ڈالی جاتی رہی تھی کہ عیسی سب سے بڑا ہے باوجود دہر یہ ہونے کے وہ اس بات کو برداشت نہ کر سکا کہ عیسی